
کراچی: شہر قائد میں ایک اور ہولناک واقعہ پیش آگیا جہاں مبینہ طور پر ہسپتال انتظامیہ کی غفلت نے ایک جواں سال نوجوان کی جان لے لی۔تفصیلات کے مطابق سولجر بازار میں واقع فاطمیہ ہسپتال میں زیر علاج 24 سالہ شاہزیب بخار اور پیٹ درد کی شکایت پر دوپہر 1 بجے ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق ڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد طبی کارروائی شروع کی گئی۔لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ اہل خانہ کی غیر موجودگی میں نوجوان کو مبینہ طور پر غلط انجکشن لگایا گیا جس کے بعد اس کی حالت بگڑنے لگی۔ بازو اور کندھوں میں شدید درد کے بعد ہاتھ پیر اکڑ گئے اور شاہزیب موقع پر ہی دم توڑ گیا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہم سے جو دوائیں منگوائی گئیں وہ تو لگائی ہی نہیں گئیں، ہسپتال عملے نے اپنے پاس سے دوائیں اور انجکشن لگایا جس سے ہمارے بچے کی جان چلی گئی لواحقین کے مطابق حالت تشویشناک ہوتے ہی ہسپتال انتظامیہ اور عملہ موقع سے فرار ہو گیا۔ انصاف کا مطالبہ کرنے پر ڈاکٹر سجاد نامی شخص نے مبینہ طور پر دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ ہر کام کے دو طریقے ہوتے ہیں، چاہو تو شور کر لو یا کیس کر دو واقعے کے بعد تاحال ہسپتال انتظامیہ اور عملے کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ متوفی کے اہل خانہ نے اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لے کر انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واقعہ سولجر بازار تھانے کی حدود میں پیش آیا ہے






