
کراچی(کرائم رپورٹر/طاہر عباسی)کراچی میں بھتہ خورروایتی گینگ کلچرسے جدیداورڈیجیٹل جرائم کی شکل اختیارکرگئی، شہر بھر میں بھتہ خور ڈیجیٹل ذرائع اورموبائل بینکنگ،حوالہ ہنڈی اورکرپٹوکرنسی کے ذریعے رقوم کی منتقلی سے متلعق معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مرتب کی ہے، تفصیلات کے مطابق بھتہ خوری کے خاتمے کےلیے پولیس کے خفیہ ادارے نے پورٹ تیارکرلی رپورٹ میں پولیس اورحساس اداروں پرمشتمل خصوصی جوائنٹ ٹاسک فورس کے قیام کی سفارشات کردی گئی پی ٹی اے اور ایف آئی اے کی مدد سے غیرملکی نمبرز،واٹس ایپ اور انٹرنیٹ کالز کی سخت مانیٹرنگ کی جائے،اس سے متعلق رپورٹ میں سفارشات پیش کی گئی ہے، جبکہ جیلوں کے اندر سے مجرمانہ نیٹ ورک چلانےوالوں کےخلاف سخت اقدامات اورجیمرزکےاستعمال کی میں مزید موثر انداز اپنانے کی بھی سفارشات کی گئی، رپورٹ کے مطابق جنوری سے جولائی2026کے دوران ضلع وسطی میں26،ضلع ویسٹ میں18،اورضلع ایسٹ میں17کیسز بھتے کے رپورٹ ہوئے،رواں سال کے دوران کراچی میں 93بھتے کے کیسزز رپورٹ ہوئے،تاجروں،بلڈرز،صنعت کاروں اور دکانداروں کوشدیددباؤکاسامنا ہے،بھتہ خور گروپس غیرملکی واٹس ایپ نمبرز، وی پی این ،اور وی او آئی پی سروسزکے ذریعے دھمکیاں دیتے ہیں،رپورٹ میں بتایا گیا کہ لیاری گینگ وارسے منسلک بھتے کے نیٹ ورکس نیوکراچی،ناظم آباد،اورصنعتی علاقوں میں سب سے زیادہ فعال ہے بھتے خورگروپ ایران اور بلوچستان میں بیٹھے اپنے ہینڈلرزکے ذریعے کنٹرول کررہے ہیںقانون نافذکرنےوالے اداروں نے بھتہ خوروں کےخلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیزکردیے ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشترکہ آپریشنز میں بھتہ خور گروپ کے کئی کارندے ہلاک اورگرفتارکیے گئے،پولیس نے کئی ملزمان کوجدید ٹیکنالوجی کی مددسے گر فتارکیاگیا،کراچی میں بھتہ خوری میں ملوث سولجر بازار کے تھارولین کا جمیل چھانگا،لیاری کا وصی لاکھوں،شکیل بادشاہ خان،صمد کاٹھیاواڑی،استاد تاجو،بلال پپو، مامایعقوب،بہادر پی ایم ٹی، سمیت دیگر شامل ہیں۔
