کراچی: میر رضا کیس میں شفاف تحقیقات جاری ہیں، کسی بااثر شخصیت کو نہیں بچایا جا رہا: اے آئی جی آزاد خان

کراچی: اے آئی جی آزاد خان کا کہنا ہے کہ مقتول میر رضا کیس میں کسی بااثر شخصیت کو نہیں بچایا جارہا ہے۔
اے آئی جی آزاد خان کا کہنا ہے کہ میر رضا کیس میں کسی بااثر شخصیت کا نام ہے تو بتائیں؟ فیملی نے اب تک کسی کو مشکوک نہیں قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی تک قتل کا محرک نہیں ملا ہے، محرک تلاش کررہے ہیں وہ ملے گا تو معاملہ آگے بڑھے گا۔
اے آئی جی نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں حکومت کا ہم پر کوئی دباؤ نہیں، معاملے کی شفاف تحقیقات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیس میں ڈاکٹر کو بلانا کوئی مسئلہ نہیں تھا، ڈاکٹر سندھ محکمہ صحت کے ملازم ہیں دبئی کے نہیں جبکہ ایم ایل او کو وزیر اعلیٰ نے نہیں تفتیشی ٹیم نے بلایا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جوڈیشل کمیشن نے "وافلکس” کے منیجر شیری اور اکاؤنٹنٹ محمد عمیر خان سمیت دیگر اہم گواہان کو طلب کیا ہے، تمام گواہان کے بیانات 15 ستمبر کو صبح 11 بجے قلمبند کیے جائیں گے۔
کیس کے اہم کردار حسن تنولی کا بیان 15 ستمبر کو دوپہر 12 بجے زوم آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا، حسن تنولی اس وقت آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔
بزنس پارٹنر احمد بھردے نے کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے حسن تنولی کا نام لیا تھا۔
احمد بھردے کا کہنا تھا کہ جب میر رضا کا فون نمبر بند جا رہا تھا تو حسن تنولی نے ان سے رابطہ کیا تھا۔
میر کے بزنس پارٹنر نے کمیشن کو بتایا تھا کہ حسن تنولی نے میر رضا سے 50 لاکھ روپے کی رقم وصول کرنی تھی۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*