
کراچی: میر رضا علی کیس کی تحقیقات کےلیے قائم جوڈیشل کمیشن نے مرحوم کے بزنس پارٹنر محمد احمد کے بیان پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا۔
میر رضا علی قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں مرحوم کے اہل خانہ اور وکیل جبران ناصر کے علاوہ، 7 اہم گواہان بھی پیش ہوئے۔
اجلاس میں میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد، وینڈر عبداللہ، ایس ڈی پی او ارشد آفریدی اور آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ کے بیانات ریکارڈ کئے گئے۔
بزنس پارٹنر محمد احمد نے بیان میں کہا کہ میر رضا اپنے والد کے قرض اور مالی مسائل کے باعث دباؤ کا شکار تھا، قرض خواہ رقم کی واپسی کے لیے پریشان کرتے تھے اور گھر آنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی تھیں۔
کمیشن نے احمد سے میر رضا کے کمرے کی تلاشی، کاروباری معاہدے سے متعلق سوالات بھی کیے۔ احمد نے بتایا کہ میر رضا کچھ عرصے سے کرپٹو ٹریڈنگ بھی کررہا تھا۔ احمد نے بتایا کہ میر رضا کی گمشدگی کے بعد قرض خواہوں نے رابطے کیے۔
کمیشن نے کہا کہ احمد کے بیانات میں تضاد ہے۔ ایپل کی تصدیق موجود ہے کہ میر رضا کے ایپل اکاؤنٹ میں احمد کا ای میل اور موبائل نمبر موجود تھا۔
میر رضا کو رائیڈ فراہم کرنے والے ڈرائیور احسان اللہ نے بتایا کہ میر رضا نے ابتدا میں گلستان جوہر کی لوکیشن دی تھی تاہم بعد میں راستہ تبدیل کروایا۔ میر رضا کو صبح 4 بج کر 28 منٹ پر ایسی جگہ اتارا جہاں سناٹا تھا۔
ایس ڈی پی او شارع فیصل ارشد آفریدی نے اپنے بیان میں والدین کے الزامات کو مسترد کیا، کمیشن نے سوال کیا کہ وہ تفتیشی افسر نہیں تھے تو کس قانون یا اختیار کے تحت معلومات حاصل کرنے گئے۔
کمیشن نے گزشتہ کارروائی کے دوران ڈاکٹر اسامہ کے ساتھ آنے والے افراد کی جانب سے صحافی کے موبائل فون چھیننے پر ڈاکٹر اسامہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا جبکہ آئندہ اجلاس میں ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی اور ہیڈ محرر ذیشان کو بھی طلب کرلیا۔ مزید کارروائی 7 ستمبر 2026 تک ملتوی کردی گئی۔
