کراچی: شرف آباد سے اغوا ہونے والے کے الیکٹرک کے 2 ملازمین پراسرار طور پر واپس آگئے؛ متضاد بیانات نے پولیس کو الجھا دیا

کراچی:شرف آباد سے کے الیکٹرک کے 2 ملازمیں کے مبینہ اغوا ہونے کا انکشاف ہوا تاہم 40 گھنٹے بعد واپسی اور متضاد بیانات نے معاملہ مزید الجھا دیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے شرف آباد سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والے کے الیکٹرک کے دو ملازمین 40 گھنٹے بعد پراسرار طور پر واپس آگئے اور واپسی کے بعد دونوں اہلکاروں کے بیانات نے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے۔

نیو ٹاؤن تھانے میں 22 اپریل کو کے الیکٹرک کے اسسٹنٹ منیجر کریم نذر شاہ کی مدعیت میں اغوا کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔

مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ ارشد اور شفیق نامی ملازمین کمپنی میں بطور لائن مین کام کرتے ہیں، دونوں اہلکار رات 8 بجے کمپنی سے کھانا کھانے کا بتا کر نکلے لیکن واپس نہیں آئے، جب ان کے موبائل فونز بند ملے اور گھر والوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا، تو تلاش کے بعد ان کے اغوا کا مقدمہ درج کروا دیا گیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات دونوں لائن مین اچانک خود ہی واپس آگئے، جس کے بعد پولیس نے ان سے پوچھ گچھ شروع کی۔

پولیس نے بتایا کہ ارشد اور شفیق لاپتہ ہونے کے حوالے سے متضاد بیانات دے رہے ہیں اور ان کے بیانات میں یکسانیت نہیں ہے جبکہ پولیس کے بارہا پوچھنے کے باوجود اہلکاروں نے اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ وہ ان 40 گھنٹوں کے دوران کہاں تھے اور ان کے ساتھ کیا پیش آیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے دونوں ملازمین کو آج دوبارہ طلب کیا گیا ہے تاکہ مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

تاہم پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعی اغوا کا واقعہ تھا یا اس کے پیچھے کچھ اور محرکات شامل تھے اور کے الیکٹرک انتظامیہ کو بھی اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*