
کراچی(16 اپریل 2026): شہری اغوا برائے تاوان میں سندھ پولیس مزید اہلکار ملوث نکلے ہیں جنہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
شہر میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں سندھ پولیس کے اپنے اہلکاروں کے ملوث ہونے کا ایک اور سنگین انکشاف ہوا ہے۔ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس افسر اور اہلکار سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے گلستانِ جوہر سے 60 سالہ شہری مرزا یوسف بیگ کو اغوا کیا تھا۔ اس واردات کے مرکزی ملزمان میں بہادر آباد تھانے کا اے ایس آئی محسن آصف اور فارن سیکیورٹی سیل کا اہلکار راشد علی شامل ہیں۔ واردات میں حماد نامی شخص اور دیگر دو ملزمان بھی ملوث تھے۔
ذرائع اے وی سی سی کا کہنا ہے کہ 7 ملزمان پولیس پارٹی بن کر شہری کے گھر میں داخل ہوئے اور مرزا یوسف بیگ کو گاڑی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ گھر سے 35 لاکھ روپے نقد بھی لوٹ لیے۔ مغوی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر کے 5 کروڑ روپے تاوان طلب کیا گیا، جو بعد ازاں سودے بازی کے بعد 25 لاکھ روپے طے ہوا۔
تاوان کی رقم راشد منہاس روڈ پر ملینیئم مال کے قریب ادا کی گئی۔ اس دوران اے وی سی سی کی ٹیم نے ملزمان کا پیچھا کیا اور کارروائی کے دوران 4 ملزمان کو دھر لیا، تاہم 3 ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ذرائع اے وی سی سی حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی ہے جو ملزمان نے کرائے پر حاصل کی تھی۔ مفرور ملزمان کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
