کراچی: سندھ پولیس کا جرائم کے اعداد و شمار کم دکھانے کا انکشاف، 9 ماہ میں 1100 سے زائد افراد قتل

کراچی(کرائم رپورٹر/طاہرعباسی)سندھ پولیس کی جانب سے محکمہ داخلہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں بڑھتے ہوئے جرائم کو کم ظاہر کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال جرائم میں اضافہ ہوا ہے، تاہم جمع کرائی گئی رپورٹ میں گزشتہ سال کے 12 ماہ کے اعداد و شمار کا موازنہ رواں سال 2026ءکے 9 ماہ کے اعداد و شمار سے کرکے جرائم میں کمی ظاہر کی گئی۔پورٹ کے مطابق قتل، کاروکاری، ڈکیتی اور گاڑیوں کی چوری سمیت دیگر جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ سندھ میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث 2026ءکے 9 ماہ کے دوران 1100 سے زائد افراد قتل ہوچکے ہیں، جبکہ کاروکاری کے الزام میں 119 افراد قتل ہوئے۔ ڈکیتی مزاحمت پر 62 افراد قتل اور 147 زخمی ہوئے۔جنوری سے ستمبر تک 3 ہزار 64 ڈکیتی کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں، 125 شہریوں سے گاڑیاں چھینی گئیں جبکہ 842 گاڑیاں چوری ہوئیں۔ اسی عرصے کے دوران 2733 موٹر سائیکلیں چھینی اور 6724 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں۔سندھ پولیس کی جانب سے محکمہ داخلہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2026ءکے دوران 1111 افراد قتل ہوچکے ہیں، جبکہ 2025ءمیں قتل ہونے والوں کی تعداد 1326 تھی۔ سندھ کے مختلف شہروں میں کاروکاری کے الزام میں 119 افراد قتل ہوئے، جبکہ 2025ءمیں یہ تعداد 126 تھی۔رپورٹ کے مطابق 2026ءکے 9 ماہ کے دوران ڈکیتی مزاحمت پر 62 افراد قتل ہوئے، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 73 تھی۔ رواں سال جنوری سے ستمبر تک ڈکیتی مزاحمت پر 147 افراد زخمی ہوئے، جبکہ گزشتہ سال زخمی ہونے والوں کی تعداد 207 تھی۔رواں سال 3 ہزار 64 ڈکیتیاں اور راہزنی کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ گزشتہ سال 3 ہزار 859 وارداتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔ رواں سال کے 9 ماہ کے دوران 125 کاریں چھینی گئیں، جبکہ گزشتہ سال 172 کاریں چھینی گئی تھیں۔ اسی طرح 842 کاریں چوری ہوئیں، جبکہ گزشتہ سال ایک ہزار 35 کاریں چوری ہوئی تھیں۔جنوری سے ستمبر تک 2733 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں، جبکہ گزشتہ سال 3986 موٹر سائیکلیں چھینی گئی تھیں۔ رواں سال 6724 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں، جبکہ 2025ءمیں 9132 موٹر سائیکلیں چوری ہوئی تھیں۔کراچی میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران 45 افراد قتل اور 153 زخمی ہوچکے ہیں۔ 2026ءکے دوران 13 ہزار 421 شہریوں سے موبائل فون چھینے گئے، 143 شہریوں سے کاریں، 3494 شہریوں سے موٹر سائیکلیں چھینی گئیں، جبکہ 979 کاریں اور 20 ہزار 746 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق جنوری میں ڈکیتی مزاحمت پر 8 افراد قتل اور 21 زخمی ہوئے، جبکہ 1442 موبائل فون، 19 کاریں اور 455 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔ فروری میں ڈکیتی مزاحمت پر 3 افراد قتل اور 17 زخمی ہوئے، جبکہ 1250 موبائل فون، 22 کاریں اور 482 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔مارچ میں ڈکیتی مزاحمت پر 4 شہری قتل اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ 1265 موبائل فون، 19 کاریں اور 451 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔ اپریل میں 5 افراد قتل اور 12 زخمی ہوئے، جبکہ 1624 موبائل فون، 22 کاریں اور 472 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔مئی میں ڈکیتی مزاحمت پر 8 افراد قتل اور 22 زخمی ہوئے، جبکہ 1860 موبائل فون، 20 کاریں اور 460 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔ جون میں 2 افراد قتل اور 18 زخمی ہوئے، جبکہ 1689 موبائل فون، 8 کاریں اور 302 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔جولائی میں ڈکیتی مزاحمت پر 4 افراد قتل اور 24 زخمی ہوئے، جبکہ 1846 موبائل فون، 11 کاریں اور 247 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔ اگست میں 4 افراد قتل اور 12 زخمی ہوئے، جبکہ 1794 موبائل فون، 14 کاریں اور 453 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔ستمبر میں ڈکیتی مزاحمت پر 7 افراد قتل اور 13 زخمی ہوئے، جبکہ 651 موبائل فون، 8 کاریں اور 172 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025ءمیں ڈکیتی مزاحمت پر 56 افراد قتل اور 222 زخمی ہوئے تھے، جبکہ 11 ہزار 859 موبائل فون، 212 کاریں اور 4786 موٹر سائیکلیں چھینی گئی تھیں۔ اسی دوران 1322 کاریں اور 27 ہزار 313 موٹر سائیکلیں چوری ہوئی تھیں۔جبکہ کراچی میں بھتہ خوری کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گینگ وار سے وابستہ 7 سے زائد گروہ تاجروں سے بھتہ وصول کررہے ہیں۔ رواں سال بھتہ خوری کے 70 سے زائد مقدمات رپورٹ ہوچکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گینگ وار کمانڈر وصی لاکھو ایران سے بھتہ خوری کا نیٹ ورک چلا رہا ہے، جبکہ صمد کاٹھیاواڑی، جمیل چھانگا، بہادر پی ایم ٹی اور عظیم بھی ایران سے بھتہ خوری کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ گینگ وار سے وابستہ حماد ملائیشیا جبکہ احمد علی مگسی بینکاک سے بھتہ خوری کا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔رواں سال 70 سے زائد تاجروں کو بھتے کی …

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*