کراچی : ریڈ لائن منصوبے کی سائٹ سیل کرنے پر ٹھیکیدار عدالت پہنچ گیا

کراچی: ریڈ لائن لاٹ ٹومنصوبہ سیل کرنے پر ٹھیکیدا عدالت پہنچ گیا، درخواست میں انکشاف ہوا ، منصوبے کا ڈیزائن ڈھائی سال بعد فراہم کیا گیا اور سائٹ 30 ماہ بعد کنٹریکٹر کے حوالے کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کی سائٹ سیل کیے جانے کے خلاف ٹھیکیدار نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

عدالت نے معاملے کی سماعت کے دوران سائٹ کی صورتحال جانچنے کے لیے ناظر سندھ ہائیکورٹ کو کمشنر مقرر کر دیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ناظر سائٹ کا دورہ کرکے وہاں موجود مشینری کی مکمل فہرست تیار کرکے رپورٹ پیش کرے اور ساتھ ہی ناظر کی فیس 2 لاکھ روپے مقرر کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ یہ فیس درخواست گزار ادا کرے گا۔

سندھ ہائیکورٹ نے سائٹ فوری ڈی سیل کرنے کی زبانی استدعا مسترد کرتے ہوئے ٹرانس کراچی، حکومت سندھ، مختار کار، پولیس اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو نوٹس جاری کر دیے۔ کیس کی مزید سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔

درخواست گزار کے وکیل صلاح الدین احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ ریڈ لائن منصوبے کا کنٹریکٹ پاکستانی اور چینی کمپنی کو دیا گیا تھا، جبکہ منصوبے کا ڈیزائن ڈھائی سال بعد فراہم کیا گیا اور سائٹ 30 ماہ بعد کنٹریکٹر کے حوالے کی گئی۔

درخواست گزار کے وکیل صلاح الدین احمد نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ تنازعات کے حل کے لیے قائم بورڈ نے تاخیر کا ذمہ دار حکومتِ سندھ کو قرار دیا تھا اور ٹھیکیدار کو 3.7 ارب روپے اضافی اخراجات کی مد میں ادا کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز مختار کار، پولیس اور ڈپٹی کمشنر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دفتر اور سائٹ سیل کی، جبکہ سائٹ پر موجود اربوں روپے مالیت کی مشینری متاثر ہو رہی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت دفتر اور سائٹ کو فوری ڈی سیل کرنے کا حکم جاری کرے۔

بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی ہے، جس میں ناظر کی رپورٹ اور سرکاری حکام کے جوابات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*