
کراچی پولیس میں بڑے پیمانے پر تطہیر کا عمل شروع کرتے ہوئے اسمگلنگ اور منظم جرائم کی سرپرستی کے الزامات میں 6 تھانیداروں سمیت 22 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے، جن میں ایس ایچ او قمر کیانی، فیصل لطیف، رضوان قریشی، خالد رفیق، فراست شاہ اور نفیس الرحمان شامل ہیں؛ ذرائع کے مطابق ان افسران پر جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی اور کرپشن کے سنگین الزامات تھے، جبکہ ڈی آئی بی انچارج کیماڑی عابد حسین، ہیڈ محرر فردوس ملک اور دیگر اہلکاروں بشمول ہارون رشید، محمد عفان اور اسامہ ملک کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ خصوصاً ایس ایچ او موچکو کے علاقے میں منظم اسمگلنگ نیٹ ورک کے فعال ہونے اور احسن چنا جیسے افسران کا نام کرپٹ افسران کی فہرستوں میں آنے پر محکمہ جاتی سطح پر شدید تحفظات پائے جا رہے تھے، جس کے بعد ان تمام اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محکمے میں کالی بھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور جرائم کی سرپرستی کرنے والے کسی بھی افسر کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔
