کراچی ایئرپورٹ پر روٹرز کی مبینہ غیر قانونی درآمد کا معاملہ، کلیکٹر کسٹمز کراچی ایئرپورٹ کے خلاف منفی مہم کی شدت میں کمی

کراچی ایئرپورٹ پر روٹرز کی مبینہ غیر قانونی درآمد کا معاملہ، کلیکٹر کسٹمز کراچی ایئرپورٹ کے خلاف منفی مہم کی شدت میں کمی

مشتبہ روٹرز کی کھیپ ریلیز نہ کرنے پر کسٹمز افسر کو تنقید کا سامنا

قومی اخبار اور روزنامہ ریاست نے 5 اکتوبر کو معاملہ صفحۂ اول پر نمایاں کیا تھا، سوشل میڈیا پر جاری مبینہ منفی مہم کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھنے لگے

کراچی (رپورٹ عرفان فاروق ) کراچی ایئرپورٹ پر روٹرز کی مبینہ غیر قانونی درآمد اور کسٹمز حکام کی جانب سے متعلقہ کھیپ کی کلیئرنس روکنے کی خبر 5 اکتوبر کو روزنامہ قومی اخبار اور روزنامہ ریاست نے اس معاملے کو اپنے صفحۂ اول پر نمایاں جگہ دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، کلیکٹر کسٹمز ایئرپورٹ کراچی کی جانب سے مشکوک درآمدی کھیپ کو ریلیز کرنے سے انکار کے بعد معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں متعلقہ افسر کے خلاف تنقیدی مہم شروع ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ذرائع سے منسوب اطلاعات کے مطابق، روٹرز کی کھیپ کی کلیئرنس نہ ہونے کے بعد بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ذرائع ابلاغ پر کلیکٹر کسٹمز کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سلسلے میں بعض سوشل میڈیا پوڈکاسٹرز کی جانب سے بھی ایسا مواد نشر یا شائع کیے جانے کی اطلاعات ہیں جس میں مذکورہ افسر کے کردار اور فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے۔
تاہم، بعد ازاں اس مبینہ مہم کی شدت میں کمی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بعض حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا متعلقہ افسر کے خلاف تنقید کا آغاز محض انتظامی فیصلے کے ردعمل میں ہوا یا اس کے پس منظر میں دیگر عوامل بھی کارفرما تھے۔
کسٹمز حکام کی بنیادی ذمہ داری درآمدی اشیا کی قانونی حیثیت، متعلقہ دستاویزات، درآمدی اجازت ناموں اور قابلِ اطلاق قواعد و ضوابط کی جانچ پڑتال کو یقینی بنانا ہے۔ اگر کسی درآمدی کھیپ کے بارے میں قانونی یا دستاویزی شبہات موجود ہوں تو اس کی کلیئرنس روک کر مزید جانچ پڑتال کرنا متعلقہ قوانین اور اختیارات کے دائرے میں آتا ہے۔ تاہم، کسی مخصوص کھیپ کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ ریکارڈ اور مجاز حکام کے فیصلے کی روشنی میں ہی کیا جا سکتا ہے۔
اس تناظر میں یہ امر بھی اہم ہے کہ کسی سرکاری افسر کے خلاف میڈیا یا سوشل میڈیا پر لگائے جانے والے الزامات کو حتمی حقیقت تصور کرنے سے قبل ان کی غیر جانب دارانہ تصدیق کی جائے۔
اگر متعلقہ درآمد کنندہ یا کسی دوسرے فریق کو کسٹمز کارروائی پر اعتراض تھا تو اس کے لیے دستیاب قانونی اور انتظامی فورمز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
تاحال کلیکٹر کسٹمز کے خلاف مبینہ منفی مہم کی شدت میں تا حال کمی آئی ہے اور سوشل میڈیا پوڈ کاسٹرز نے اپنی غلط خبر پر معزرت اور تصحیح شائع کی ہے ۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*