ڈسٹرکٹ ویسٹ جرائم کا گڑھ بن گیا، چھالیہ و گٹکا اسمگلنگ جاری، خفیہ اداروں کی رپورٹ میں سنگین انکشافات

کراچی(چیف کرائم رپورٹر/اکرم قریشی) ڈسٹرکٹ ویسٹ جرائم کی آماجگاہ بن گیا‘ چھالیہ‘ گٹکا‘ نان کسٹم اشیاءکی اسمگلنگ جاری ہے خفیہ ادارے نے رپورٹ تیار کرکے آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف کو ارسال کردی‘ پولیس کے انتہائی معتبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ خفیہ اداروں نے ڈسٹرکٹ ویسٹ کی ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں انکشاف کیاگیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ویسٹ میں منگھوپیر اور اورنگی ٹاﺅن میں اسمگلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ چھالیہ‘ نان کسٹم پید اشیائ‘ گٹکا باآسانی آرہاہے پورے ڈسٹرکٹ میں سپلائی ہورہاہے۔ آئی جی سندھ کے حکم کے بعد چند روز صرف کام بند ہوا اور اس کے بعد دوبارہ موکل کے ذریعے کام شروع کردیاگیا۔ پولیس چیف کی جانب سے چند چھوٹے افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی تھی تاہم بڑے افسران کے خلاف نہ کوئی کارروائی کی گئی ہے رپورٹ میں بتایاگیا کہ پورے ڈسٹرکٹ میں ت ھانیدار اور ہیڈ محرر کی تعیناتیوں کے باقاعدہ بھاری رقوم وصول کی جارہی ہے رقم مبینہ طورپر نصیر اکرم عباسی اہلکار بلال کالا اور نبیل وصول کررہے ہیں نصیر اکرم عباسی انتہائی راشی اہلکار جو کہ اس سے قبل بھی معطلی کا سامنا کرچکا ہے۔ڈسٹرکٹ ویسٹ میں تقریباً6 سے7 ہزار پان وچھالیہ کی دکانیں موجود ہیں روزانہ لاکھوں روپے کی چھالیہ فروخت کی جاتی ہے۔ جبکہ اندازاً یومیہ ایک لاکھ کلو گرام چھالیہ فروخت کی جاتی ہے۔جبکہ چھالیہ کی فروخت پر سندھ حکومت نے سخت پابندی عائد ہے رپورٹ میں بتایاگیا کہ ڈی آئی جی انچارج اسیر داس آرگنائز جرائم چلانے کے عیوض فی کس تھانہ جات کے انٹےلی جنس اہلکار سے فی کس 20سے25 ہزار وصول کررہا ہے او رجرائم کے بھتے سے رقم وصول کرتا ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا کہ رقم شکیل کلرک کے ذریعے نصیر اکرم عباسی تک پہنچ رہی ہے۔ ٹرانسفر پوسٹنگ چھٹیاں اور تعیناتی کے لئے بھی رشوت کا بازار گرم ہے۔بادرن بائی پاس منگھوپیر اور پاکستان بازار تھانے کے راستوں جنہیں آسان الفاظ میں لائن کہا جاتا ہے اسمگلنگ کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں حالیہ کریک ڈاﺅن کے دوران وقتی طورپر راستوں کو بند کیاگیاتھا جس سے اسمگل شدہ پیٹرول‘ ڈیزل‘ نان کسٹم ‘ چھالیہ‘ انڈین گٹکا‘ منشیات اور غیر ملکی خصوصاً آئس کرسٹال میں کمی آئی تھی جو کہ اب دوبارہ بحال ہوچکی ہے۔ڈسٹرکٹ ویسٹ ایک مضبوط منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کرچکا ہے جس سے غےرقانونی مالی مفادات کمزور نگرانی اور پولیس کی مبینہ ملی بھگت جیسے عوامل شامل ہیں۔ صورتحال مزید بہتر نہیں ہورہی ہے رپورٹ میں بتایاگیا کہ میرٹ اور شفافیت کو بہتر بنایاجائے۔ اسمگلنگ کے راستوں کی بندش کو یقینی بنایاجائے منشیات نیٹ ورکس کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کئے جائیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*