
وزیراعظم نے صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں اغوا کےد وران قتل ہونے والے 3 پاکستانیوں کے لواحقین کو فی کس سوا کروڑ روپے امداد اور بچوں کے تعلیمی اخراجات ادا کرنے اور گھر دینے کا اعلان کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے صومالیہ میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی کاشف عمر کے بیٹے اذہان کاشف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور والد کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور آپ کے خاندان کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔
وزیر اعظم نے جاں بحق ہونے والے تینوں پاکستانیوں کی میتیں جلد از جلد پاکستان لانے کے لئے حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی اور وزارتِ خارجہ و دیگر تمام متعلقہ اداروں کو خاندانوں کے ساتھ ہر مرحلے پر براہِ راست رابطے کی ہدایت کی۔
واضح رہے کہ صومالیہ میں پانچ ماہ تک یرغمال بنائے گئے جہاز آنر 25 کی بازیابی کیلیے صومالی فورسز کے آپریشن میں پانچ افراد جاں بھق ہوئے تھے جن میں تین پاکستانی شامل تھے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صومالیہ کے ساحل پر بازیابی کے دوران جاں بحق تینوں پاکستانیوں، سید کاشف عمر محمود احمد انصاری اور رفیع اللہ خان، کے اہل خانہ کے لیے مالی معاونت، انکے بچوں کے لئے مفت تعلیم اور رہائش گاہ کا اعلان کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بازیابی کے دوران جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے فی خاندان مالی معاونت کا اعلان کیا جبکہ بچوں کو حکومت کی جانب سے مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ شہباز شریف نے جاں بحق ہونے والوں کے ہر خاندان کو گھر بھی دینے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سوگوار خاندانوں کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، حکومت ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کرے گی اور کہا کہ وزارتِ خارجہ اور پاکستان کے سفارتخانے کو ہدایت کی کہ صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے میتوں کی پاکستان منتقلی کے عمل کو تیز کیا جائے۔
وزیراعظم نے زخمی پاکستانیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی اور دیگر پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے بھی تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
