واٹر کارپوریشن کی کھربوں مالیت کی اراضی 3 سالہ لیز پر دینے کی آڑ میں ٹھکانے لگانے کا منصوبہ

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی کھربوں روپے مالیت کی اراضی اور املاک کو 3 سالہ لیز پر دینے کی آڑ میں ٹھکانے لگانے کے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔

ادارے کی سرکاری اراضی سے متعلق اہم ضوابط کو بورڈ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کر کے منظور کرائے جانے پر واٹر کارپوریشن کے افسران اور ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق واٹر کارپوریشن کی کھربوں روپے مالیت کی زمین کو شارٹ ٹرم لیز پر دینے کی منظوری پر ادارے کے افسران اور ملازمین نے زمینوں اور املاک کو قلیل مدتی لیز پر دینے کی مخالفت کی ہے۔

واٹر کارپوریشن کے افسران کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے وسائل سے ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ ریونیو حاصل کرتا ہے، جب کہ بااثر سیاسی شخصیات طویل عرصے سے واٹر کارپوریشن کی زمینوں پر نظر گاڑے ہوئے ہیں۔

افسران کے مطابق شارٹ ٹرم لیز کا فارمولا زمینوں کی بندر بانٹ کا منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کسی بھی حکومت نے واٹر کارپوریشن کی زمینوں کو لیز پر نہیں دیا۔

دوسری جانب واٹر کارپوریشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ایکٹ 2023 کی دفعہ 47 کے تحت قلیل مدتی لیز سے متعلق ضوابط کی منظوری دی ہے۔

واٹر کارپوریشن کے مطابق لیز کی مدت قانونی حد کے مطابق زیادہ سے زیادہ تین سال تک ہو سکتی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری زمین کو بیچنے، منتقل کرنے یا مستقل طور پر ٹھکانے لگانے کی منظوری نہیں دی گئی۔

ادارے کے مطابق واٹر کارپوریشن پراپرٹی رولز 2026 (شارٹ ٹرم لیز) کی منظوری دی گئی ہے، جب کہ کسی بھی زمین کو شارٹ ٹرم لیز پر دینے سے پہلے ہر تجویز کا باقاعدہ زمین کی جانچ پڑتال کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت جائزہ لیا جائے گا۔

دوسری جانب واٹر کارپوریشن کی زمینیں شارٹ ٹرم لیز پر دینے کے معاملے پر کے ایم سی میں اپوزیشن جماعتوں اور ایم کیو ایم پاکستان نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومت واٹر کارپوریشن کی قیمتی سرکاری اراضی کو بندر بانٹ اور من پسند افراد کو نوازنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ اس اقدام کی ہر فورم پر بھرپور مخالفت کی جائے گی اور عدالتی دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*