نیشنل بینک کے 302 ارب روپے غیر مختص منافع پر سوالات، پنشنرز اور شیئر ہولڈرز متاثر ہونے کا انکشاف

Karachi Sindh, Pakistan – 03 Aug 2019 : Outside the Head Office Building of National Bank of Pakistan (NBP) located at I I chundrigar road

کراچی (رپورٹ عرفان فاروقی)

نیشنل بینک کی سال2025 کی سالانہ رپورٹ میں بدستور 302 ارب روپے کے غیر مختص منافع ظاہر کیے گئے ہیں، جو گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل جمع ہوتے آ رہے ہیں۔ بینک کی جانب سے اس غیر تقسیم شدہ منافع کی وجہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن سے متعلق زیرِ سماعت عدالتی مقدمات کو قرار دیا جاتا رہا ہے، اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ ممکنہ مالی واجبات کے پیش نظر یہ منافع شیئر ہولڈرز میں تقسیم نہیں کیا جا رہا۔

ذرائع کے مطابق یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ بینک انتظامیہ نے اسی جواز کو بنیاد بنا کر کئی برسوں تک شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ کی ادائیگی سے محروم رکھا، جبکہ دوسری جانب عدالتی احکامات کے باوجود پنشنرز کے واجبات کی ادائیگی میں بھی پیش رفت نہ ہوسکی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پنشنرز کو ان کے قانونی حقوق سے محروم رکھ کر نہ صرف انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ عدالت کے احکامات کی بھی مبینہ خلاف ورزی کی گئی۔

سال 2025 کی رپورٹ کے مطابق بینک نے پنشنرز کے معاملات کو بنیاد بنا کر 302 ارب روپے کا خطیر غیر مختص منافع برقرار رکھا، جس کے نتیجے میں پنشنرز اور شیئر ہولڈرز دونوں متاثر ہوئے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق اس خطیر رقم پر بینک کو سالانہ کم از کم 35 ارب روپے تک اضافی سودی آمدن حاصل ہونے کا امکان ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بینک کا ادا شدہ سرمایہ اور ذخائر (Tier I Capital) تقریباً 104 ارب روپے ہیں، جبکہ غیر مختص منافع بڑھ کر 302 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس پر مختلف حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

مزید برآں، یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ بینک نے بظاہر بہتر مالی نتائج ظاہر کرنے کے لیے شیئر ہولڈرز اور پنشنرز دونوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا، متعدد عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کیا اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو بھی مکمل تصویر فراہم نہیں کی۔ اسی دوران بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، جو پہلے ہی تقریباً ایک کروڑ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں، نے 2026 کے لیے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر مزید 12 کروڑ روپے بونس کی منظوری بھی حاصل کرلی، جس پر بینکنگ حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

مالیاتی ماہرین اور متاثرہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور غیر مختص منافع، پنشن واجبات اور انتظامیہ کی مالی پالیسیوں کا شفاف آڈٹ کرایا جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور متاثرہ فریقین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*