نیب کی جانب سے سندھ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے اربوں روپے کے 3 ترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ طلب

قومی احتساب بیورو (NAB) کی جانب سے سندھ کے محکمہ اسکول ایجوکیشن سے SELECT، ASPIRE اور Sindh Secondary Education Improvement Project (SSEIP) سے متعلق ترقیاتی اسکیموں کا ریکارڈ طلب کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے ان منصوبوں میں شامل ترقیاتی اسکیموں، منظوریوں، پی سی ون، فنڈز کے اجرا، اخراجات، ٹینڈرز، ٹھیکوں اور منصوبوں کی موجودہ پیش رفت سے متعلق دستاویزات طلب کی گئی ہیں، تاہم نیب کی جانب سے ریکارڈ طلب کیے جانے کا مطلب کسی افسر یا منصوبے میں بدعنوانی ثابت ہونا نہیں ہے۔ سندھ میں ان تینوں پروگرامز کے تحت بڑے پیمانے پر تعلیمی انفرا اسٹرکچر اور اصلاحاتی منصوبے جاری رہے ہیں، سرکاری ریکارڈ کے مطابق SELECT کے تحت 295 پرائمری اسکولوں کی اپ گریڈیشن سمیت اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی نظام کی بہتری کے اقدامات شامل ہیں۔ Sindh Government ASPIRE کے تحت سندھ کے مختلف اضلاع میں پرائمری اسکولوں کو ایلیمنٹری سطح تک اپ گریڈ کرنے، واش رومز، پینے کے پانی اور فرنیچر سمیت بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے منصوبے شامل ہیں، سندھ اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ASPIRE کے تحت 60 اسکولوں کو چار اضلاع میں اپ گریڈ کیا جا رہا تھا۔ دوسری جانب SSEIP ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری منصوبہ ہے، جس میں سیکنڈری اسکولوں کی تعمیر و اپ گریڈیشن، اساتذہ کی تربیت، لیبارٹری سہولیات اور امتحانی نظام میں اصلاحات شامل ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق منصوبے کے بنیادی پروگرام میں 160 اسکولوں کو سیکنڈری سطح تک اپ گریڈ کرنے اور 2,630 اساتذہ کی تربیت کے اہداف شامل ہیں۔ سندھ حکومت کے مطابقSSEIP کے مرکزی منصوبے کی مالیت 13.1 ارب روپے ہے، جبکہ 117 سیکنڈری اسکولوں کی تعمیر اور اساتذہ کی تربیت اس کے اہم اجزا میں شامل ہیں، اس کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی بحالی کے لیے 302.5 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد اب توجہ اس امر پر مرکوز ہوگی کہ منصوبوں کی منظوری سے لے کر عملی تکمیل تک سرکاری فنڈز کس طرح خرچ ہوئے، ٹینڈرز اور کنٹریکٹس کس بنیاد پر دیے گئے، کام کی رفتار کیا رہی اور منظور شدہ منصوبوں کے مقابلے میں زمینی نتائج کیا ہیں۔ تعلیمی شعبے کے ان بڑے منصوبوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے تناظر میں ریکارڈ کی جانچ پڑتال کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، اگر تحقیقات کے دوران مالی بے ضابطگی یا قواعد کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو ذمہ داران کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*