
معذرت کے ساتھ
تحریر: راحت کاظمی
سندھ کی تقسیم کی بحث نے وفاق اور پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر آمنے سامنے لا کھڑا کیا
محسن نقوی کے بیان سے شروع ہونے والی بحث سندھ اسمبلی تک جا پہنچی،
پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم مسترد کر دی
ایم کیو ایم نے انتظامی اختیارات اور نئے یونٹس کا سوال اٹھا دیا،
L قوم پرست حلقے بھی میدان میں آگئے
اب اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات ہوں گی یا نئے صوبوں کی بنیاد رکھی جائے گی؟
پاکستان کی سیاست میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا سوال کوئی نیا نہیں، لیکن جب بھی یہ بحث دوبارہ زندہ ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ملکی سیاست کے کئی حساس اور پیچیدہ پہلو بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ یہی کچھ ان دنوں ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی ضرورت کے حوالے سے دیے گئے بیان نے ایک ایسی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے وفاق سے سندھ اور پھر سندھ اسمبلی تک پہنچ گئی۔ پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور سندھ کی تقسیم کے کسی بھی تصور کو مسترد کر دیا، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ اور بعض دیگر حلقوں نے انتظامی اختیارات کی تقسیم، بہتر طرز حکمرانی اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا۔
اب یہ معاملہ محض ایک بیان یا ایک سیاسی جماعت کے ردعمل تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پاکستان کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے:
کیا پاکستان موجودہ صوبائی حدود کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامی اصلاحات کی طرف جائے گا یا نئے صوبوں کی تشکیل کی بحث عملی مرحلے میں داخل ہونے والی ہے؟
محسن نقوی کے بیان نے اتنی بڑی سیاسی ہلچل کیوں پیدا کی؟
بظاہر نئے انتظامی یونٹس کی بات انتظامی اصلاحات کے دائرے میں آتی ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں آبادی بڑھنے، شہری پھیلاؤ اور انتظامی ضرورت کے مطابق نئے اضلاع، ڈویژنز، ریجنز اور انتظامی علاقے بنائے جاتے ہیں۔
لیکن پاکستان میں معاملہ مختلف ہے۔
یہاں "نئے انتظامی یونٹس” کی اصطلاح سنتے ہی یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ کیا یہ یونٹس مستقبل میں نئے صوبوں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں؟
خاص طور پر سندھ کے حوالے سے یہ سوال اس لیے زیادہ حساس ہے کہ کراچی، حیدرآباد اور شہری سندھ کی انتظامی حیثیت کے بارے میں کئی دہائیوں سے مختلف سیاسی مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔
چنانچہ پیپلز پارٹی نے اس بحث کو صرف انتظامی اصلاحات کا معاملہ سمجھنے کے بجائے سندھ کی جغرافیائی وحدت کے سوال سے جوڑ دیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک انتظامی بحث سیاسی تنازع میں تبدیل ہو گئی۔
پیپلز پارٹی کا دوٹوک مؤقف: سندھ تقسیم نہیں ہوگا
پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے سندھ محض ایک صوبہ نہیں بلکہ اس کی سیاسی شناخت کا بنیادی مرکز ہے۔
پارٹی کی سندھ میں سیاست طویل عرصے سے صوبائی خودمختاری، سندھ کے حقوق اور وفاق کے مقابلے میں صوبائی اختیار کے تصور کے گرد گھومتی رہی ہے۔
اس لیے جب نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی بات سامنے آئی تو پیپلز پارٹی نے فوری طور پر اپنی سیاسی سرخ لکیر واضح کر دی۔
نثار کھوڑو کی جانب سے سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد پیش کی گئی۔ اس قرارداد پر ایوان میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے اراکین کے درمیان سخت اور جذباتی بحث ہوئی۔
فریال تالپور سمیت پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں نے بھی سندھ کی تقسیم کو واضح طور پر مسترد کیا۔
پیپلز پارٹی کا موجودہ مؤقف بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
انتظامی بہتری کے لیے اصلاحات قابلِ بحث ہیں، لیکن سندھ کی جغرافیائی یا صوبائی تقسیم ناقابلِ قبول ہے۔
یہ فرق بظاہر معمولی ہے، مگر موجودہ سیاسی کشمکش کی اصل بنیاد یہی ہے۔
سندھ اسمبلی کی قرارداد: ایک سیاسی دیوار
سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد کی منظوری کو محض علامتی کارروائی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اس قرارداد کے ذریعے پیپلز پارٹی نے سیاسی طور پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر مستقبل میں سندھ کی موجودہ حدود تبدیل کرنے کی کوئی تجویز سامنے آتی ہے تو اسے سندھ اسمبلی میں سخت مزاحمت کا سامنا ہوگا۔
یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ صوبے کی حدود میں آئینی تبدیلی صرف وفاقی حکومت کے فیصلے سے ممکن نہیں۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے منظوری بھی درکار ہوتی ہے۔
اس لیے سندھ کے معاملے میں پیپلز پارٹی کی صوبائی اسمبلی میں موجود سیاسی طاقت کسی بھی ممکنہ منصوبے کے لیے ایک بڑی آئینی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ایم کیو ایم کا سوال: مسئلہ سندھ کی تقسیم نہیں، انتظامی اختیار ہے؟
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کا مؤقف مختلف ہے۔
ایم کیو ایم طویل عرصے سے کراچی سمیت شہری سندھ کے لیے زیادہ انتظامی اختیارات، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مضبوط مقامی حکومت کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
ایم کیو ایم کے اراکین سندھ اسمبلی نے بھی حالیہ بحث کے دوران پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کی اور انتظامی یونٹس اور اختیارات کی تقسیم کا سوال اٹھایا۔
یہاں سیاسی تنازع کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے نزدیک یہ بحث سندھ کی تقسیم کی طرف جانے والی ممکنہ پیش رفت ہے، جبکہ ایم کیو ایم اسے گورننس، اختیارات اور انتظامی سہولت کا مسئلہ قرار دیتی ہے۔
یعنی دونوں جماعتیں ایک ہی مسئلے کو دو مختلف زاویوں سے دیکھ رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کا سوال ہے:
سندھ کو کیوں تقسیم کیا جائے؟
ایم کیو ایم کا سوال ہے:
اگر موجودہ انتظامی نظام عوام کو مطلوبہ سہولت نہیں دے رہا تو اسے تبدیل کیوں نہ کیا جائے؟
سندھ اسمبلی میں تلخ جملوں نے ماحول مزید گرم کر دیا
سندھ اسمبلی میں بحث کے دوران ایم کیو ایم کے اراکین کی جانب سے پیپلز پارٹی پر سخت سیاسی حملے کیے گئے۔
"ہم سندھ کا کھاتے ہیں اور پیپلز پارٹی سندھ ہی کھا گئی” جیسے جملوں نے اس بحث کو آئینی اور انتظامی دائرے سے نکال کر براہ راست سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل کر دیا۔
اس طرح کی سخت زبان اس بات کی علامت ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ صرف انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان ایک نئے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
خاص طور پر کراچی کی انتظامی حیثیت، بلدیاتی اختیارات، وسائل کی تقسیم اور شہری و دیہی سندھ کے درمیان سیاسی کشمکش ایک مرتبہ پھر مرکزی موضوع بن سکتی ہے۔
فریال تالپور کی سخت پوزیشن کیوں اہم ہے؟
فریال تالپور کی جانب سے سندھ کی تقسیم کو مسترد کرنا محض ایک رکن اسمبلی کا بیان نہیں سمجھا جا سکتا۔
پیپلز پارٹی کی سندھ کی سیاست میں ان کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ان کی واضح اور سخت پوزیشن اس بات کی علامت ہے کہ پارٹی سندھ کے معاملے میں کسی قسم کی سیاسی گنجائش پیدا کرنے کے موڈ میں نہیں۔
پیپلز پارٹی کے لیے سندھ کی تقسیم کا معاملہ صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی بقا اور شناخت کا سوال بھی ہے۔
اگر پارٹی اس معاملے میں نرمی دکھاتی ہے تو اسے سندھ میں اپنے ہی سیاسی ووٹ بینک کے اندر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے پیپلز پارٹی کی موجودہ حکمت عملی صاف دکھائی دیتی ہے:
سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔
لندن کی ملاقاتیں اور سیاسی مشاورت
اس تمام سیاسی ہلچل کے دوران لندن میں ملک کی اہم سیاسی شخصیات کی موجودگی نے بھی اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی لندن میں موجودگی کے دوران سیاسی مشاورت جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسی دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی آصف علی زرداری سے ملاقات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
قدرتی طور پر سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھا کہ کیا ان ملاقاتوں میں نئے انتظامی یونٹس، صوبوں کی تشکیل یا سندھ کے حوالے سے بھی کوئی اہم مشاورت ہوئی؟
تاہم یہاں احتیاط ضروری ہے۔
صرف ملاقاتوں کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا کہ لندن میں سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی حتمی فارمولا طے پا چکا ہے۔
البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث شدت اختیار کر رہی ہو، اعلیٰ سطح کی سیاسی ملاقاتیں اس معاملے کی سیاسی اہمیت کو بڑھا دیتی ہیں۔
پنجاب میں صوبہ قابلِ قبول، سندھ میں تقسیم کیوں نہیں؟
اس پورے تنازع کا ایک نہایت اہم سیاسی پہلو پنجاب کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔
پیپلز پارٹی پنجاب میں نئے صوبے، خصوصاً جنوبی پنجاب کے حوالے سے اصولی طور پر حمایت کرتی رہی ہے۔
یہاں سیاسی مخالفین ایک سوال ضرور اٹھائیں گے:
اگر انتظامی ضرورت کے تحت پنجاب میں نیا صوبہ بنایا جا سکتا ہے تو سندھ میں ایسا مطالبہ کیوں ناقابلِ قبول ہے؟
یہ سوال پیپلز پارٹی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
پیپلز پارٹی کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ ہر صوبے کے تاریخی، سیاسی، سماجی اور جغرافیائی حالات مختلف ہیں اور کسی صوبے کی تقسیم وہاں کے عوام کی مرضی اور آئینی طریقہ کار کے بغیر نہیں ہونی چاہیے۔
لیکن سیاسی میدان میں اس فرق کو مخالفین "دوہرا معیار” قرار دے سکتے ہیں۔
چنانچہ آنے والے دنوں میں جنوبی پنجاب اور سندھ کی بحث ایک دوسرے سے جڑ سکتی ہے۔
آئین پاکستان کیا کہتا ہے؟
اس پورے معاملے کا فیصلہ آخرکار سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ آئین سے ہوگا۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 239 کے مطابق اگر کسی آئینی ترمیم کے ذریعے کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کی جائے تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔
اس کا مطلب صاف ہے:
وفاقی حکومت اکیلے سندھ کو تقسیم نہیں کر سکتی۔
صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ کی منظوری کافی نہیں ہوگی۔ سندھ اسمبلی کی دو تہائی منظوری بھی درکار ہوگی۔
یہی وہ آئینی نکتہ ہے جو موجودہ سیاسی منظرنامے میں پیپلز پارٹی کو مضبوط پوزیشن فراہم کرتا ہے۔
اگر پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے حصول کو روکنے میں کامیاب رہتی ہے تو سندھ کی آئینی تقسیم کا راستہ انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
لیکن انتظامی یونٹ اور صوبہ ایک چیز نہیں
یہاں اصل قانونی اور انتظامی فرق سمجھنا ضروری ہے۔
ایک نیا صوبہ بنانا اور ایک نیا انتظامی یونٹ قائم کرنا ایک ہی معاملہ نہیں۔
حکومت کسی صوبے کے اندر:
نئے اضلاع قائم کر سکتی ہے؛
نئے ڈویژن بنا سکتی ہے؛
انتظامی ریجن تشکیل دے سکتی ہے؛
سرکاری محکموں کو علاقائی بنیادوں پر منظم کر سکتی ہے؛
اور مقامی حکومتوں کو زیادہ اختیارات دے سکتی ہے۔
لہٰذا اگر وفاقی حکومت واقعی "نئے انتظامی یونٹس” کی بات کر رہی ہے تو ضروری نہیں کہ اس کا مطلب نئے صوبے ہوں۔
لیکن سندھ میں خدشہ یہی ہے کہ:
آج کا انتظامی یونٹ کل کے نئے صوبے کا مطالبہ بن سکتا ہے۔
یہی خدشہ پیپلز پارٹی کی تشویش کی بنیادی وجہ ہے۔
اصل مسئلہ شاید کراچی ہے
اگر اس پوری بحث کو گہرائی سے دیکھا جائے تو کراچی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، سندھ کا سب سے بڑا شہری مرکز اور ملکی معیشت کا بنیادی انجن ہے۔
کراچی کے ٹیکس، بلدیاتی اختیارات، پانی، ٹرانسپورٹ، پولیس، زمین اور شہری منصوبہ بندی جیسے معاملات پر طویل عرصے سے سیاسی تنازعات موجود ہیں۔
ایم کیو ایم کے لیے کراچی کو زیادہ انتظامی اختیارات دینا ایک بنیادی سیاسی مطالبہ رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کے لیے کراچی سندھ کا حصہ ہے اور کراچی کو کسی علیحدہ صوبائی یا جغرافیائی اکائی کی شکل دینے کی کوئی بھی کوشش ایک انتہائی حساس معاملہ ہوگی۔
اسی لیے نئے انتظامی یونٹس کی بحث اگر کراچی تک پہنچتی ہے تو سیاسی درجہ حرارت کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
قوم پرست جماعتیں بھی میدان میں
سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے لیے سندھ کی جغرافیائی وحدت ایک بنیادی سیاسی مسئلہ ہے۔
اگر نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کو سندھ کی تقسیم کی جانب پہلا قدم سمجھا گیا تو قوم پرست حلقوں کی مزاحمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس صورت میں معاملہ اسمبلی کی چار دیواری تک محدود رہنے کے بجائے احتجاجی سیاست اور سڑکوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
یہ صورتحال وفاقی حکومت کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی چیلنج ہوگی۔
کیا واقعی نئے صوبے بننے والے ہیں؟
موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو فوری طور پر نئے صوبوں کی تشکیل کے امکانات زیادہ نظر نہیں آتے۔
اس کی کئی وجوہات ہیں۔
اول، سندھ اسمبلی پہلے ہی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہے۔
دوم، سندھ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہے۔
سوم، آئین کے تحت صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔
چہارم، سندھ میں قوم پرست حلقے کسی بھی تقسیم کی سخت مخالفت کر سکتے ہیں۔
اور پنجم، کراچی اور شہری سندھ کے حوالے سے کسی بھی نئے انتظامی فارمولے پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان شدید سیاسی اختلاف پیدا ہونے کا امکان ہے۔
تاہم بحث ختم نہیں ہوئی، بلکہ شاید ابھی شروع ہوئی ہے
یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ نئے صوبوں کے امکانات کم ہیں تو معاملہ ختم ہو گیا۔
درحقیقت شاید اصل بحث اب شروع ہوئی ہے۔
اگر وفاقی حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ وہ صوبوں کی حدود تبدیل نہیں بلکہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کو جدید بنانا چاہتی ہے تو اس کے لیے سیاسی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
نئے اضلاع، نئے ڈویژن، مضبوط بلدیاتی نظام، علاقائی انتظامی مراکز اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ایسے راستے ہیں جن کے ذریعے صوبوں کو توڑے بغیر گورننس بہتر کی جا سکتی ہے۔
لیکن اگر انتظامی یونٹس کو سیاسی یا صوبائی حیثیت دینے کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو تنازع ناگزیر ہو جائے گا۔
اصل لڑائی صوبوں کی نہیں، اختیارات کی ہے
غور کیا جائے تو موجودہ تنازع کا اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے؟
کیا تمام اختیارات وفاق کے پاس ہوں؟
کیا صوبے مضبوط ہوں؟
کیا بڑے شہروں کو زیادہ خودمختاری دی جائے؟
کیا اضلاع اور ڈویژن مالی اور انتظامی اختیارات کے حامل ہوں؟
کیا بلدیاتی حکومتوں کو آئینی طور پر مضبوط بنایا جائے؟
اگر ان سوالات کا جواب تلاش کر لیا جائے تو شاید نئے صوبے بنانے کی ضرورت بھی کم ہو جائے۔
لیکن اگر گورننس کے مسائل برقرار رہے تو نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کا مطالبہ بار بار سامنے آتا رہے گا۔
آنے والے دنوں کے تین ممکنہ منظرنامے
موجودہ حالات میں تین ممکنہ راستے نظر آتے ہیں۔
پہلا منظرنامہ: انتظامی اصلاحات
وفاق اور صوبے مشاورت سے نئے اضلاع، ڈویژن اور انتظامی ریجن تشکیل دیں اور صوبوں کی موجودہ حدود برقرار رکھی جائیں۔
یہ نسبتاً کم تصادم والا راستہ ہوگا۔
دوسرا منظرنامہ: نئے صوبوں پر قومی بحث
اگر وفاقی حکومت نئے صوبوں کے قیام کو باقاعدہ پالیسی کا حصہ بناتی ہے تو جنوبی پنجاب، بہاولپور اور سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں نئے مطالبات سامنے آ سکتے ہیں۔
اس صورت میں معاملہ ایک صوبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ قومی آئینی بحث بن جائے گا۔
تیسرا اور سب سے حساس منظرنامہ: سندھ کی تقسیم
اگر معاملہ کراچی یا شہری سندھ کو الگ صوبائی حیثیت دینے تک پہنچتا ہے تو پاکستان کی سیاست میں ایک انتہائی بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی اس کی سخت مخالفت کرے گی۔
ایم کیو ایم اسے اپنے دیرینہ مطالبے کی جانب پیش رفت سمجھ سکتی ہے۔
سندھی قوم پرست حلقے مزاحمت کریں گے۔
اور وفاقی حکومت کو آئینی اور سیاسی دونوں محاذوں پر شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔
نتیجہ: پاکستان ایک نئی صوبائی بحث کے دہانے پر
محسن نقوی کا بیان شاید فوری طور پر کسی نئے صوبے کے قیام کا اعلان نہ ہو، لیکن اس نے پاکستان کی سیاست میں ایک پرانی اور انتہائی حساس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی نے سندھ کے معاملے میں اپنی سرخ لکیر واضح کر دی ہے۔
ایم کیو ایم انتظامی اختیارات، گورننس اور شہری سندھ کے مسائل کو سامنے لا رہی ہے۔
سندھی قوم پرست سندھ کی جغرافیائی وحدت کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وفاقی حکومت نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کی بات کر رہی ہے۔
اور پنجاب میں نئے صوبوں کی حمایت اس بحث کو مزید وسیع قومی تناظر دے سکتی ہے۔
اب اصل سوال یہ نہیں کہ صرف صوبے بنیں گے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے انتظامی ڈھانچے کو کس طرح تبدیل کرے گا، اختیارات کہاں تقسیم کرے گا، بڑے شہروں کو کس حد تک خودمختاری دے گا اور وفاق و صوبوں کے درمیان اختیارات کا توازن کس طرح برقرار رکھے گا۔
کیونکہ سندھ کی تقسیم محض نقشے پر ایک لکیر کھینچنے کا نام نہیں۔
یہ سندھ کی سیاست، کراچی کی حیثیت، صوبائی خودمختاری، وفاق اور صوبوں کے تعلقات، وسائل کی تقسیم اور پاکستان کے مجموعی سیاسی ڈھانچے کو متاثر کرنے والا فیصلہ ہوگا۔
اسی لیے آنے والے دنوں میں نظریں صرف اسلام آباد پر نہیں بلکہ کراچی، سندھ اسمبلی اور لندن میں ہونے والی سیاسی مشاورتوں پر بھی مرکوز رہیں گی۔
اور شاید اس پوری بحث کا سب سے اہم سوال یہی ہوگا:
کیا پاکستان نئے صوبے بنائے گا، یا موجودہ صوبوں کے اندر ایسا نیا انتظامی نظام تشکیل دے گا جو تقسیم کے مطالبے کو ہی غیر ضروری بنا دے؟
