میٹرک بورڈ کراچی کے افسران اور ملازمین شدید مایوسی کا شکار ہوگئے

محکمہ بورڈز و جامعات کی جانب سے ایماندار اور محنتی افسران کی معطلی کے باعث امتحانی عمل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا

مافیا کاکام کرنے والے بیرونی عناصر کا میٹرک بورڈ کے امتحانی عمل میں مداخلت کا ملبہ ایماندار افراد پر ڈال دیا گیا

آل پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن, پیک پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن اور ایپکا کی صوبائی وزیر اسمٰعیل راہو سے نظر ثانی کی درخواست

موجودہ صورتحال کے باعث بورڈ کے سینئر افسران میں بے چینی, شعبہ امتحانات میں خدمات انجام دینے سے معذرت

چئیرمین میٹرک بورڈ کی مشکلات میں اضافہ, امتحانی عمل اور نتائج کی تیاری کے لیے افسران کا فقدان

کراچی(رپورٹ: کامران شیخ)

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے افسران بالخصوص شعبہ امتحانات سے وابستہ عملے میں مایوسی پھیل گئی, میٹرک بورڈ کے افسران کی حالیہ معطلی کے بعد امتحانی عمل اور نتائج کی تیاری شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے, ایک روز قبل صوبائی وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ کے احکامات پر محمکے کی جانب سے اسسٹنٹ کنٹرولر شیخ محمد طارق کریم, ریسرچ ایسوسی ایٹ ایم اے جعفری اور ڈیٹا انٹری آپریٹر سید علی حیدر کاظمی کو معطل کیا گیا جبکہ پہلے سے معطل ڈپٹی سیکریٹری عمران طارق کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیاہے, واضح رہے کہ میٹرک بورڈ میں پہلے ہی تجربہ کار اور سینئر افسران کا فقدان ہے جس کے باعث چئیرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سہو نے امتحانی عمل کے انعقاد کے لیے ادارے کے ایسے افسران کو منتخب کیا تھا جو شعبہ امتحانات کا طویل تجربہ رکھتے اور ماضی میں اہم عہدوں پر کام کرچکے ہیں جبکہ ڈپٹی سیکریٹری عمران طارق جنھیں تقریباً ایک سال قبل معطل کیا گیا تھا انھیں بھی بعض ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں جس کی وجہ بورڈ میں تجربہ کار افسران کا فقدان تھا۔ تاہم میٹرک بورڈ کی ساکھ کو ماضی میں بھی نقصان پہنچانے والی مافیا کے کارندوں نے رواں سال بھی بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرتے ہوئے مختلف ذرائع سے امتحانی عمل میں مداخلت کی کوشش کی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے, واضح رہے کہ غلط امتحانی مراکز بنانے اور بھاری رقم وصول کرکے من پسند سینٹر بنوانے میں مافیا کے وہ عناصر ملوث ہیں جن کا تعلق میٹرک بورڈ سے نہیں ہے یا تو وہ افراد ریٹائر ہوچکے ہیں یا پھر ان کا تعلق مختلف نجی اور سرکاری اسکولوں میں پڑھنے بچوں اور ان کے والدین سے ہے جبکہ بعض مضافاتی علاقوں میں مافیا کے یہ کارندے براہ راست اسکول منتظمین سے رابطے میں ہین جو طلبہ اور انکے والدین سے بھاری رقوم وصول کرتے اور امتحانی عمل میں مداخلت کرتے ہیں جبکہ مافیا کے یہ کارندے میٹرک بورڈ میں بھی صبح شام نظر آتے ہیں ۔ شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر میرٹ پر انکوائری کی جائے تو من پسند سینٹر بنوانے میں ملوث متعدد بیرونی عناصر بے نقاب ہوسکتے ہیں۔ میٹرک بورڈ کی موجودہ صورتحال پر چئیرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن حیدر علی اور ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دوران امتحان دو تجربہ کار افراد کی معطلی انتظامی بحران میں اضافے کا سبب ہو گی ویسے ہی بورڈ میں افسران کی شدید کمی ہے

حیدرعلی کا کہنا ہے کہ اسٹنٹ کنٹرولر طارق کریم اور ریسرچ اسسٹنٹ محبوب جعفری تجربہ کار،محنتی ، اچھی ساکھ، اور بےداغ ماضی کے حامل افسران ہیں, وزیر یونیورسیٹیز اینڈ بورڈز سندھ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں دونوں تجربہ کار اور نیک نام افسران کو ذاتی طور طلب کر کے صحیح صورتحال دریافت کر لیں۔کیونکہ اس طرح کے فیصلوں سے بورڈ کے باقی کام کرنے والے ملازمین کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے وزیر یونیورسیٹیز اینڈ بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو سے درخواست کرتے ہیں کہ دونوں افسران کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ امتحانی مشکلات سے بچا جا سکے

اس نازک وقت میں دوران امتحان تجربہ کار افسران کا غیر فعال ہونا انتہائی نقصان دہ ہے۔ جبکہ پیک پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سندھ کے صدر شہزاد اختر, غلام عباس بلوچ اور دیگر نے تشویش ظاہر کی ہے کہ امتحانات کے دوران

شیخ محمد طارق کریم ,محبوب احمد جعفری اور سید علی حیدر کاظمی جیسے تجربہ کار اور قابل اعتماد افسران کو معطل کیا گیا ہے، جو انتظامی طور پر ایک مشکل صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جب بورڈ پہلے ہی عملے کی کمی کا سامنا کر رہا ہو، تو ایسے تعلیم یافتہ اور ایماندار افسران کو ہٹانا معاملات میں مزید مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہےش آل پاکستان کلرکس ایسو سی ایشن (ایپکا) نے بھی بورڈ سے 3افسران کی معطلی پر صوبائی وزیر سے نظرثانی کی اپیل کی ہے ایپکا کراچی ڈویژن کے عہدیداران اعجاز بھٹو، احسان مگسی، عبدالغفور عباسی، ایپکامیٹرک بورڈ کراچی یونٹ کے عہدیداران سلمان احمد خان، ارشاد احمد جمالی اور شکیل لقمان نے بورڈ میں دیانتداری سے کام کرنے والے سینئر افسران شیخ طارق کریم، ایم اے جعفری اور سید علی رضا کاظمی کی معطلی پر صوبائی وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ اسماعیل راہو سے نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ بورڈ کی موجودہ صورتحال کے باعث میٹرک بورڈ کے سینئر اور تجربہ کار ملازمین نے شعبہ امتحانات میں خدمات انجام دینے سے معذرت کرلی ہے جس کے باعث امتحانی عمل اور نتائج کی تیاری میں سنگین بحران پیدا ہوسکتا ہے

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*