میر رضا کیس: ڈی آئی جی فرخ لنجار کے کمیشن کے 27 سوالات کے جوابات سامنے آگئے

کراچی (9 اکتوبر 2026): میر رضا کیس میں ڈی آئی جی فرخ لنجار کے کمیشن کے 27 سوالات کے جوابات سامنے آگئے، انہوں نے انتہائی مختصر اور ذو معنی جوابات جمع کروائے، بیشتر سوالات کو ہاں اور نہیں میں ٹالتے رہے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ کیا آپ 28 اور 29 جولائی کو میر رضا کیس کے وقت ڈی آئی جی کراچی ایسٹ تھے؟ فرخ لنجار نے جواب دیا کہ جی میں اس وقت وہاں بطور ڈی آئی جی کام کر رہا تھا۔

کمیشن نے سوال کیا کہ کیا آپ ایسٹ کے آپریشنز اور انویسٹی گیشنز کے سینئر علاقائی پولیس افسر تھے؟ ڈی آئی جی نے جواب دیا کہ ڈسٹرکٹ ایس ایس پیز اپنے اضلاع کے آپریشنل سربراہ ہوتے ہیں، ایس ایس پی انویسٹی گیشن تفتیش کی نگرانی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو معلوم تھا میر رضا کے والد نے 28 جولائی کو بیٹے کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی؟ فرخ لنجار نے کمیشن کے سوال پر نفی میں جواب دیا۔

کمیشن نے سوال کیا کہ کیا آپ کو ایف آئی آر میں تاخیر کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا؟ ڈی آئی جی نے جواب میں ’نہیں‘ کہا۔

کمیشن نے پوچھا کہ سمیع اللہ سومرو کو تفتیشی ٹیم انچارج بنانے پر کیا آپ کو اطلاع دی گئی یا مشورہ کیا گیا تھا؟ فرخ لنجار نے بتایا کہ جی مجھے اطلاع دی گئی تھی۔

ان سے سوال ہوا کہ کیا آپ کو آگاہ کیا گیا تھا ایس پی عثمان سدوزئی کراچی سے باہر تھے؟ ڈی آئی جی نے اس سوال پر ہاں کا جواب دیا۔

سوال کیا گیا کہ کیا میر رضا کے مالی مسائل کی معلومات میڈیا کو دینے کا علم تھا؟ فرخ لنجار نے جواب دیا کہ مجھے ایسی کسی معلومات کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

کمیشن نے سوال کیا کہ کیا آپ نے میڈیا کو دی جانے والی معلومات کی منظوری دی یا اعتراض کیا تھا؟ ڈی آئی جی نے کہا کہ معلومات کا علم نہیں تھا اس لیے یہ سوال مجھ سے متعلق نہیں۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے کسی مرحلے پر تفتیشی ٹیم یا آئی او بدلنے کی سفارش کی؟ فرخ لنجار نے جواب دیا کہ نہیں میں نے ایسا نہیں کیا۔

سوال ہوا کہ آپ نے میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا جائزہ کب لیا؟ ڈی آئی جی نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ یا طبی نتائج میرے ساتھ شیئر نہیں کیے گئے تھے۔

کیا پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے خدشات سے آگاہ کیا گیا تھا؟ اس پر ڈی آئی جی نے کمیشن کے سوال کا نفی میں جواب دیا۔

کیا پولیس سرجن نے اگست میں آپ سے واٹس ایپ پر رابطہ کیا؟ اس پر فرخ لنجار نے کہا کہ پولیس سرجن نے مجھ سے کسی سرکاری ذریعے یا سرکاری نمبر پر رابطہ نہیں کیا، پولیس سرجن نے نامعلوم نمبر سے رابطہ کیا مگر بات نہیں ہو سکی۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو پولیس سرجن کے 3 اگست کے قبر کشائی کی سفارش کے خط سے آگاہ کیا گیا تھا؟ ڈی آئی جی نے اس سوال کا نفی میں جواب دیا۔

کمیشن نے سوال کیا کہ پولیس سرجن کے خدشات کا علم ہونے یا اطلاع ملنے کے بعد آپ نے کیا کارروائی کی؟ فرخ لنجار نے بتایا کہ مجھے پولیس سرجن کے خدشات سے متعلق کبھی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، 6 اگست کو میڈیا سے معلوم ہوا عدالت نے قبر کشائی کا حکم دیا ہے۔

کیا آپ کو اہل خانہ کے قبر کشائی سے انکار کی اطلاع تھی؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ 7 اگست کو معلوم ہوا میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر اعتراضات کی وجہ سے اہلخانہ نے انکار کیا۔

کیا آپ نے بعد میں اسپیشل میڈیکل بورڈ کے نتائج کا جائزہ لیا؟ اس پر ڈی آئی جی نے جواب دیا کہ نتائج مجھے نہیں بھیجے گئے، میڈیا پر گردش کے دوران نظر سے گزرے۔

کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں ڈاکٹر اسامہ کو 9 اگست کو وزیر اعلیٰ ہاؤس بلایا گیا تھا؟ اس پر فرخ لنجار نے بتایا کہ ہاں میں جانتا ہوں۔

کیا آپ نے ڈاکٹر اسامہ کو اجلاس میں شرکت کا کہا تھا؟ اس پر ڈی آئی جی نے جواب دیا کہ میں نے نہیں کہا تھا۔

کیا آپ نے ماتحت افسر کو خودکشی کے پہلو سے تفتیش کی ہدایت کی؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔

کیا کسی سینئر افسر نے آپ کو خودکشی قرار دے کر تفتیش کی ہدایت دی؟ فرخ لنجار نے بتایا کہ نہیں ایسی کوئی ہدایت نہیں ملی۔

کیا کسی سیاسی یا سرکاری اہلکار نے تفتیش کے رخ پر رابطہ کیا؟ اس پر ڈی آئی جی کا جواب نفی میں تھا۔

کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کو میڈیا پر ثبوت سے پہلے قرضوں اور خاندانی مسائل کی خبروں کا علم تھا؟ فرخ لنجار نے اس سوال پر بھی نفی میں جواب دیا۔

کیا اس طرح کے افشا سے قبل از وقت عوامی بیانیہ تیار ہو سکتا تھا؟ ڈی آئی جی نے بتایا کہ میرا ماننا ہے کہ جاری تفتیش کی تفصیلات میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر نہیں ہونی چاہییں، میڈیا پر نشر ہونے سے تفتیش متاثر اور قبل از وقت بیانیہ بنتا ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ جب اگست میں تفتیش کو ازسر نو تشکیل دیا گیا تو کیا مشورہ ہوا؟ فرخ لنجار نے کمیشن کو جواب دیا کہ نہیں مشورہ نہیں ہوا۔

کمیشن نے پوچھا کہ تفتیشی ٹیم کی تبدیلی کے حوالے سے کیا وجوہات بتائی گئیں؟ اس پر فرخ لنجار نے جواب دیا کہ تفتیشی ٹیم کی تبدیلی کے وقت مشورہ نہیں ہوا اور نہ وجوہات بتائی گئیں۔

فرخ لنجار سے سوال ہوا کہ کیا تفتیش کی منتقلی سے غفلت برتنے والے افسران پر کارروائی کا اختیار متاثر ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، درحقیقت میں نے غفلت برتنے والے اہلکاروں پر کارروائی شروع کر دی ہے۔

آخر میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے تفتیش منتقل ہونے کے بعد کوئی محکماتی جائزہ شروع کیا؟ ڈی آئی جی کا اس سوال پر بھی جواب نفی میں تھا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*