ڈاکٹر اسامہ کے دوسرے بیان کے بعد سپر میڈیکل بورڈ کا مطالبہ کیا گیا ہے، ڈاکٹر اسامہ نے آڈیو دے کر گڑھا کھودا ہے، وکیل

کراچی میں نوجوان میر رضا کے قتل کے حوالے سے مقتول کے والدین نے پولیس کی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ وہ کون سا نمبر ہے جو آخر تک رضا سے رابطے میں رہا جبکہ خاتون اے ایس پی تفتیشی ٹیم میں شامل نہ ہونے کے باوجود ہرگواہ کے بیان میں موجود رہیں۔
مقتول میر رضا کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمیشن کی سماعت کے حوالے سے بتایا کہ کل ڈی جی ہیلتھ پیش ہوئے تھے، ان کے مطابق ان کے کیریئر میں پہلی بار ایسا ہوا کہ بنایا ہوا میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا، انہوں نے اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن کی ہدایت پر میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کا کہا تھا اور ڈی جی ہیلتھ کے بیان کے دوران ہی انہیں ہٹا دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسر نے بھی آج قانون کے بجائے پریکٹس کی بات کی، آج تک کیس کے کسی دستاویز پر اے ایس پی ندا جنید کا نام نہیں تھا جبکہ اے ایس پی ہر گواہ کے بیان میں موجود ہوتی تھیں، انہوں نے بھی قانون کے بجائے سینیئر افسران کی ہدایت اور پریکٹس کی بات کی۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ اے ایس پی ندا جنید کے مطابق خاتون افسر ہونے کی بنیاد پر انہیں شامل رکھا گیا، تحقیقاتی ٹیم میں دوسری خواتین افسران بھی موجود ہیں، ریکارڈ پر اے ایس پی ندا کا نام کہیں موجود نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اسامہ کے دوسرے بیان کے بعد سپر میڈیکل بورڈ کا مطالبہ کیا گیا ہے، فیملی کی جانب سے پوچھے جانے کے باوجود تاحال جواب نہیں دیا گیا، اگر سپر میڈیکل بورڈ بنایا جا رہا ہے تو کیا پہلے میڈیکل بورڈ کے ارکان کا بیان ریکارڈ کیا گیا، میڈیکل بورڈ کسی انتظامی حکم کے تحت نہیں عدالتی احکامات پر بنا تھا۔
وکیل نے کہا کہ میں عامر فاروقی سے سوال کرتا ہوں کہ کیا آپ مجسٹریٹ کا آرڈر چیلنج کررہے ہیں یا پھر کبھی آپ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو گواہی کے لیے بلایا ہے، جہاں سے باڈی ملی ہے ان تین گلیوں کے کیمرے کیوں نہیں دیکھے گئے جہاں سے ڈیڈ باڈی ملی ہے، جیو فینسنگ کے نمبر آج تک نہیں سامنے لائے گیے، قانون کے بجائے پریکٹس کا ذکر کیا گیا، آخری لوکیشن رضا کو جس نے بھیجی تھی اس کا کیوں نہیں بتایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس افسر شہریار میمن کے فون پر بورڈ تبدیل کیا، ان کو کل دوران سماعت ڈی جی لگادیا گیا، کیس کے گواہ کی ملاقات اور شواہد جمع اے ایس پی ندا جنید کررہی ہیں اور میر رضا کے حوالے سے پورا بیانیہ اس وائس نوٹ پر بنا۔
انہوں نے کہا کہ عامر فاروقی کی ٹیم میں تو انعم صاحبہ بھی ہیں، کیا ضرورت تھی کہ اے ایس پی ندا جنید ہر جگہ موجود تھیں، ندا جنید صاحبہ سب کچھ کررہی ہیں لیکن ریکارڈ پر کہیں نام نہیں۔
جبران ناصر نے کہا کہ حکومت سندھ، پولیس سے مخاطب ہوں، ساڑھے 3 گھنٹے ہوچکے جواب نہیں آیا، سننے میں آرہا ہے کہ سپر میڈیکل بورڈ بنایا جارہا ہے، کیا یہ فیملی کے ساتھ تعاون ہے، 5 گھنٹے ویڈیو پر ڈاکٹر اسامہ کا بیان لے چکے ہیں، میڈیکل بورڈ مجسٹریٹ کے آرڈر پر بنا، سپر میڈیکل بورڈ بنا رہے ہیں تو کیا مجسٹریٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔
انہوں نے سوالات کیے کہ قاتل کون ہیں، قتل کس نے کیا اور عوام کی توجہ ہٹا رہے ہیں، آج تک جیوفینسنگ کے نام نہیں دیے، وہ کون سا نمبر ہے جو آخر تک رضا سے رابطے میں رہا۔
وکیل نے کہا کہ آپ کا مقصد قتل اور قاتل چھپانا ہے، کمیشن سے درخواست کریں گے کہ عامر فاروقی کمیشن میں آئیں، 10 اگست کو ہماری پہلی ملاقات ڈی آئی جی آفس میں ہوئی، 13 اگست تک ہم نے کہا کہ ہمیں بڑی امید ہے، 17 اگست کو ہمیں منگیتر نے بتایا کہ اس طرح کے سوالات کیے گئے۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ 19 اگست کو موجودہ تفتیشی ٹیم پر خط لکھ کر سوال اٹھائے تھے، دیکھنا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ یا ڈاکٹر سمیعہ پہلے کمیشن کو تفصیل بھیجتے ہیں، ہم قاتلوں تک پہنچنا چاہتے ہیں اور میررضا عدالتی کمیشن نے مدت بڑھانے کی استدعا کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیوں سپر میڈیکل بورڈ بنانے کی بات کی جارہی ہے، ہم نے جے آئی ٹی کے لیے درخواست دی تھی، یہ تو واضح ہوگیا کہ آڈیو ڈاکٹر اسامہ نے دی ہے، ڈاکٹر اسامہ نے یہ گڑھا کھودا ہے۔
