تحریر: اسد شاکر (سی ای او روزنامہ قومی اخبار) :آپریشن بنیان المرصوص

تاریخ اُن لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جو اندھیرے میں وار کرتے ہیں، بلکہ اُنہیں یاد رکھتی ہے جو سحر کے وقت حق اور بہادری کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب بھارت نے “آپریشن سندور” کے نام سے پاکستان کے خلاف یکطرفہ میزائل حملہ کیا۔ یہ حملہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی تھا بلکہ اس میں 31 معصوم پاکستانی شہری شہید ہوئے، مساجد کو نقصان پہنچا اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ نئی دہلی کی قیادت، اپنی عسکری برتری کے زعم میں مبتلا ہو کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچا کر بغیر کسی جواب کے بچ نکلے گی۔
لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ پسپائی نہیں تھی، وہ کمزوری نہیں تھی — وہ تھا “معرکۂ حق”۔
تاریخ ہمیشہ گواہ رہی ہے کہ فتح بہادروں کا مقدر بنتی ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں “آپریشن بنیان المرصوص” کا آغاز کیا۔ قرآنِ مجید کی آیات سے ماخوذ اس نام کا مطلب ہے “سیسہ پلائی ہوئی دیوار”۔ یہ نام محض ایک فوجی کارروائی کا عنوان نہیں تھا بلکہ دشمن کے لیے واضح پیغام تھا کہ اس سرزمین کے محافظ نہ جھکتے ہیں، نہ ٹوٹتے ہیں، نہ رحم کی بھیک مانگتے ہیں — وہ لڑتے ہیں اور فتح حاصل کرتے ہیں۔
مئی 2025 کے ان چار دنوں میں پاک فضائیہ نے جو کارنامہ انجام دیا، وہ آنے والی نسلوں تک دنیا کی عسکری اکیڈمیوں میں پڑھایا جائے گا۔
بھارت برسوں سے اپنے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں پر فخر کرتا رہا۔ تقریباً 7.8 ارب یورو مالیت کے 36 رافیل طیاروں کو بھارتی میڈیا اور عسکری قیادت ناقابلِ شکست قرار دیتی تھی۔ بھارتی جنرل انہیں “ناقابلِ تسخیر” کہتے تھے۔
لیکن پاکستانی شاہینوں نے انہیں صرف ایک چیز سمجھا — “ہدف”۔
7 مئی 2025 کو پاک فضائیہ نے تین رافیل، ایک سخوئی Su-30 اور ایک مگ-29 طیارہ مار گرایا۔ اس طرح مجموعی طور پر پانچ بھارتی جنگی طیارے تباہ کیے گئے۔ آئی ایس پی آر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 84 بھارتی ڈرونز بھی تباہ کیے۔
دنیا بھر میں اس کارروائی کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے گئے۔ فرانسیسی دفاعی کمپنی ڈاسو ایوی ایشن کے شیئرز عالمی مارکیٹ میں گر گئے۔ انڈونیشیا، جس نے رافیل خریدنے کے معاہدے کیے ہوئے تھے، نے مبینہ طور پر اپنی دفاعی پالیسی پر نظرِ ثانی شروع کی اور چینی J-10C طیاروں کا جائزہ لینا شروع کیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بھارتی فضائی برتری کا دعویٰ زمین بوس دکھائی دیا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس پوری کارروائی میں پاکستان کا ایک بھی جنگی طیارہ تباہ نہیں ہوا۔
برصغیر کی فضاؤں نے ایک نئے بادشاہ کا نام سن لیا تھا — پاکستان۔
لیکن معرکۂ حق صرف میزائلوں اور جنگی جہازوں کی جنگ نہیں تھا۔ یہ اعصاب، حکمتِ عملی، عسکری مہارت اور قومی وقار کی جنگ تھی، جو زمین، فضا، سمندر، سائبر اسپیس اور سفارتی محاذوں پر لڑی گئی۔
پاکستان نے اپنے جدید فتح-I اور فتح-II میزائلوں کے ذریعے بھارت کے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں 15 اہم ایئربیسز شامل تھیں، جیسے آدم پور، پٹھان کوٹ، امبالہ، ادھم پور، بھج، سرینگر، ہلوارہ، سرسا اور سورت گڑھ۔
بھارت کے انتہائی اہم براہموس میزائل ڈپو کو تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ بھارت کے دو جدید S-400 ایئر ڈیفنس سسٹمز، جن کی مالیت تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر فی سسٹم تھی، بھی ناکارہ بنا دیے گئے۔
بھارتی فوج کی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی نے میڈیا بریفنگ کے دوران اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ ادھم پور، بھج، پٹھان کوٹ اور بھٹنڈہ ایئربیسز پر تنصیبات اور عملے کو نقصان پہنچا۔
اسی دوران پاکستان نے سائبر محاذ پر بھی بھرپور کارروائی کی۔ بھارتی حکام کے مطابق فوجی سیٹلائٹس، سرکاری ویب سائٹس اور حساس تنصیبات پر پندرہ لاکھ سے زائد سائبر حملوں کی کوششیں ریکارڈ کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ اور بارڈر سیکیورٹی فورس کا حساس ڈیٹا بھی متاثر ہوا۔
پاکستانی ڈرونز کا نئی دہلی کی فضاؤں میں دن دہاڑے پرواز کرنا بھارت کے لیے ایک بڑی سبکی بن گیا۔ ایک ایسا ملک جو اپنے دفاع پر 2024 میں 86 ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا، وہ معرکۂ حق میں پاکستان کے سامنے بے بس دکھائی دیا۔
10 مئی 2025 کو جب جنگ بندی ہوئی تو فون بھارت نے اٹھایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح الفاظ میں کہا:
“8 اور 9 مئی کے بعد بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی۔ پاکستان نے اپنی کامیاب کارروائیوں کے بعد عالمی ثالثوں سے رابطہ کیا اور جنگ بندی کی درخواست قبول کی۔”
یعنی جنگ کب شروع ہونی ہے اور کب ختم — فیصلہ پاکستان کے ہاتھ میں تھا۔
دنیا کے معتبر اخبارات اور تھنک ٹینکس نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان سفارتی میدان میں برتری حاصل کر چکا تھا۔ فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ جنگ بندی نے اسلام آباد کو “سفارتی برتری” دی۔ واشنگٹن پوسٹ نے اسے بھارت کے لیے “اسٹریٹجک دھچکا” قرار دیا۔ اٹلانٹک کونسل نے اعتراف کیا کہ پاکستان نہ صرف سفارتی طور پر مضبوط ہو کر ابھرا بلکہ پوری قوم اپنی قیادت کے پیچھے متحد ہو گئی۔
سات دہائیوں سے بھارت مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح سے دور رکھنے کی کوشش کرتا رہا تھا، لیکن 10 مئی 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی میڈیا پر جنگ بندی کے اعلان کے بعد کشمیر کا مسئلہ دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔
یہ وہ کامیابی تھی جو کئی دہائیوں کی سفارتکاری بھی حاصل نہ کر سکی تھی۔
جنرل سید عاصم منیر کو “فیلڈ مارشل” کے عہدے پر ترقی دی گئی، جو پاکستان کی عسکری تاریخ کا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔ قومی اسمبلی میں ان کے اعزاز میں قراردادیں منظور ہوئیں جبکہ گلگت بلتستان کے برف پوش پہاڑوں سے لے کر سندھ کے ساحلی علاقوں تک پوری قوم نے فخر اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
معرکۂ حق محض ایک فوجی آپریشن نہیں تھا۔
یہ ایک اعلان تھا۔
یہ دنیا کو پاکستان کا واضح پیغام تھا کہ:
یہ سرزمین مقدس ہے۔
یہ فضائیں ہماری ہیں۔
اور فضاؤں کے یہ بے تاج بادشاہ کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
پاکستان زندہ باد۔
