
اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلام آباد کل سے ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرے گا
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان نے ایک بڑا سفارتی مشن سنبھال لیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد میں ایک انتہائی اہم چار ملکی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔
اس اسٹریٹجک اجلاس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے، مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی ہے۔
پاکستان اس پورے عمل میں ایک معتبر ثالث اور سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی پاکستان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دور بھی شروع ہوگا۔
دوسری جانب ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جنگ کو روکنے کے لیے "بات چیت کا مرحلہ” آ چکا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگ روکنے سے متعلق ایک اہم پیغام پاکستان کے ذریعے دیا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ "امریکی ہمارے ساتھ ہم آہنگی رکھتے ہیں اور ہم ایرانیوں کو بھی بات چیت کی پیشرفت سے مسلسل آگاہ کر رہے ہیں۔ موجودہ مذاکراتی پوزیشن جنگ سے پہلے کی صورتحال سے یکسر مختلف ہے کیونکہ اب جنگ ایک خاص موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں مطالبات بھی بدل گئے ہیں۔”
خاقان فیدان نے فریقین پر زور دیا کہ وہ ابتدائی سخت پوزیشنوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہ لیں اور لچک کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایران کو مذاکرات پر اعتماد کی کمی کا سامنا ہے، تاہم پوری دنیا اس غیر منصفانہ جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے اور چند اہم ممالک کے لیے ان مذاکرات کو کامیاب بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
