
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے گزشتہ چند روز کے دوران 15 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے، جس نے سمندر پار پاکستانیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ متاثرہ ورکرز کے مطابق، انہیں ان کی جائے ملازمت سے بلا کر حراستی مراکز کے پرہجوم کمروں میں کئی روز تک رکھا گیا اور پھر پاکستان بھیج دیا گیا، جبکہ بعض بے دخل کیے گئے افراد نے دورانِ حراست توہین آمیز سلوک کی بھی شکایت کی ہے۔ ان کارروائیوں میں ایک خاص نمونہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق بے دخل کیے گئے بیشتر افراد کا تعلق اہل تشیع کمیونٹی سے ہے اور ان کے نام علی، حسن، حسین اور عباس جیسے ہیں، جس کے باعث یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا یہ کارروائیاں مسلکی بنیادوں پر کی جا رہی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ بے دخل کیے گئے افراد کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور وہ جائز ویزوں اور مکمل دستاویزات کے ساتھ وہاں ملازمتیں کر رہے تھے۔ تاحال ان بڑے پیمانے پر ہونے والی بے دخلیوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی، جس کی وجہ سے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی ورکرز میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
