صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا جہاز کے 10 پاکستانی عملے میں سے 4 بحفاظت بازیاب

اسلام آباد (2 اکتوبر 2026): صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کے ہاتھوں اغوا جہاز کے یرغمال 10 پاکستانی عملے میں سے 4 کو بحفاظت بازیاب کرا لیا ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا ہپے کہ صومالیہ میں ہائی جیک بحری جہاز کے یرغمال بنائے گئے عملے میں سے 10 پاکستانیوں میں سے 4 کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ بازیاب کرائے گئے یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمان غنی کل کراچی پہنچیں گے۔

نائب وزیراعظم نے جاں بحق پاکستانیوں کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق پاکستانیوں کی میتوں کی وطن واپسی کے لیے قانونی کارروائی تیز ہے۔

انہوں نے اہلخانہ کو یقین دلایا کہ حادثے میں جاں بحق تینوں پاکستانیوں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد کی میتیں جلد واپس لائی جائیں گی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ عملے کے باقی 3 ارکان عمران علی، یاسین اور سید یوسف تا حال جہاز پر ہیں، اور ان کی بازیابی کے لیے بھی دوست ممالک سے فعال رابطہ کاری جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہر پاکستانی کی واپسی کی کوشش کر رہے ہیں اور وزارت خارجہ متاثرہ پاکستانی خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔

واضح رہے کہ رواں برس 21 اپریل کو عمان سے صومالیہ جانے والے آئل ٹینکر کو صومالی قزاقوں نے صومالیہ کے نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب اغوا کیا کر کے عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔

عملے میں 10 پاکستانی افراد بھی شامل تھے، جن کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان کی کوششیں جاری تھیں جن میں مذاکرات سمیت متعلقہ ممالک کی حکومتوں سے رابطے کیے گئے تھے۔

تاہم تین روز قبل 29 ستمبر کو صومالیہ کی پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس نے جہاز کو آزاد کرانے کے لیے ایک بڑا آپریشن کیا۔ تاہم، فورسز کی کارروائی سے ٹھیک پہلے قزاقوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

اس کے نتیجے میں تین پاکستانی ملاحوں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری سمیت 5 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*