
کراچی : شہر قائد میں غیر قانونی تعمیرات کے پھیلتے جال نے نہ صرف لوگوں سے ان کا چین سکون چھینا بلکہ انہیں موت کے منہ میں بھی دھکیل دیا گزشتہ 16 سال کے دوران صرف 1016 نقشے منظور ہوئے ہیں۔
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کراچی کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق شہر میں گزشتہ 16 برس کے دوران صرف 1016 تعمیراتی نقشے منظور کیے گئے، جبکہ اس عرصے میں ہزاروں ایسی تعمیرات وجود میں آچکی ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہیں متعلقہ اداروں سے باقاعدہ نقشے منظور کرائے بغیر تعمیر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں غیر قانونی تعمیرات صرف شہری منصوبہ بندی یا ضابطوں کی خلاف ورزی کا معاملہ نہیں بلکہ ان سے انسانی جانوں کو بھی مسلسل خطرات لاحق ہیں۔
شہر میں ماضی قریب کے دوران عمارتیں گرنے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں جن میں متعدد شہری جاں بحق اور زخمی بھی ہوئے، جبکہ بعض افراد مستقل معذوری کا شکار بھی ہوئے۔
انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں ایک ہزار سے زائد تعمیراتی نقشے منظور ہوئے، تاہم اس کے برعکس شہر میں تعمیر ہونے والی بڑی تعداد میں عمارتوں کے حوالے سے یہ سوال موجود ہے کہ وہ کس اجازت اور کس قانونی طریقہ کار کے تحت تعمیر ہوئیں۔
غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ؟
کراچی کے مختلف علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسکیم 33، سرجانی ٹاؤن، ضلع وسطی کے مختلف علاقے، محمود آباد، ڈیفنس ویو، منظور کالونی، لیاری اور اولڈ سٹی ایریا سمیت کئی علاقوں میں نقشوں کی منظوری کے بغیر تعمیرات کا سلسلہ جاری رہا۔
بعض بلڈرز اور ڈولپرز مبینہ طور پر متعلقہ اداروں سے تعمیراتی نقشے منظور کرائے بغیر ہی ہاؤسنگ اسکیمیں یا تعمیراتی منصوبے شروع کردیتے ہیں۔ اس صورت حال نے شہر کے تعمیراتی نظام میں نگرانی اور قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
نقشہ منظور کرانے کا عمل
انہوں نے بتایا کہ سرکاری اداروں سے تعمیراتی نقشہ منظور کرانے کا عمل انتہائی سست، پیچیدہ اور مختلف رکاوٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ بعض شہری اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد طویل انتظار اور پیچیدہ طریقہ کار سے تنگ آکر مبینہ طور پر منظوری مکمل ہونے سے پہلے ہی تعمیراتی کام شروع کردیتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ متعلقہ اداروں سے وابستہ بعض اہلکار مبینہ طور پر مالی فائدے کے عوض غیر قانونی تعمیرات سے چشم پوشی کرتے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
عمارتوں کے حادثات کا ذمہ دار کون؟
کراچی میں عمارتوں کے گرنے کے واقعات نے اس مسئلے کی سنگینی مزید نمایاں کردی ہے، غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ کئی برسوں سے شہری انتظامیہ، بلڈنگ کنٹرول اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نقشے منظور ہوئے یا نہیں، بلکہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات قائم ہونے کے بعد ان کی نگرانی، نشاندہی اور کارروائی کا نظام کتنا مؤثر ہے؟۔
مسئلے کا مستقل حل کیا ہے؟
کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے مسئلے کا مستقل حل اس وقت تک ممکن دکھائی نہیں دیتا جب تک نقشوں کی منظوری کے عمل کو مؤثر اور شفاف بنانے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی تعمیر شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی روک تھام کا نظام فعال نہ کیا جائے۔
اگر 16 برس میں صرف 1016 نقشے منظور ہوئے تو شہر میں اس کے مقابلے میں سامنے آنے والی ہزاروں تعمیرات کس نظام کے تحت وجود میں آئیں؟ اس سوال کا جواب صرف بلڈرز یا شہریوں ہی نہیں بلکہ ان تمام متعلقہ اداروں سے بھی طلب کیا جانا ضروری ہے جو شہر کی تعمیر، منصوبہ بندی اور نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔
