
Report by Irfan Farooqi
انتہائی باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ بھر میں ہر قسم کی منشیات کے خلاف جاری کریک ڈاؤن پولیس اپنی مرضی سے نہیں کر رہی، بلکہ انہیں یہ اقدامات کرنے کے لیے ایک طاقتور ادارے کی جانب سے مجبور کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسا نہ کرنے کی صورت میں سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کا سروس ریکارڈ متاثر ہو سکتا تھا، جبکہ اعلیٰ سطح کی تعیناتیوں اور ترقیوں سے متعلق فائلیں بھی روک دی جاتیں۔
ذرائع کے مطابق کراچی میں تعینات ایک ڈی آئی جی اور حساس اداروں کے بعض حکام کے درمیان زمینوں اور منشیات کی مبینہ کراسنگ کے معاملے پر تنازع پیدا ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ ڈی آئی جی نے ایک رپورٹ مرتب کی، جس میں حساس ادارے کے بعض افسران کے ملوث ہونے کا ذکر کیا گیا۔ اس کے بعد ڈی آئی جی کو ایک اہم دفتر میں طلب کیا گیا، جہاں کئی گھنٹوں تک سخت سوالات کیے گئے اور انہیں طویل وقت تک انتظار میں رکھا گیا۔ بعد ازاں اعلیٰ سطحی مداخلت کے بعد انہیں جانے کی اجازت دی گئی، تاہم معاملہ وہیں ختم نہیں ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بھر سے پولیس افسران کے لیے رقوم جمع کرنے والے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ فرنٹ مین کو حراست میں لے کر تفتیش کی گئی۔ دورانِ تفتیش اس نے مبینہ طور پر منشیات کے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقوم، ان کے ذرائع اور تقسیم کے پورے نظام سے متعلق اہم انکشافات کیے۔ اس کے بعد صورتحال سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو آگاہ کیا گیا، جس کے بعد صوبے بھر میں منشیات کے خلاف مرحلہ وار سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔
پہلے مرحلے میں آئس، کرسٹل، چرس، افیون اور دیگر ہارڈ ڈرگز کے بڑے سپلائرز اور ڈیلرز کی فہرستیں مرتب کی گئیں اور مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں۔ تاہم ان کارروائیوں کے باوجود منشیات کا کوئی بڑا ذخیرہ برآمد نہ ہونے پر کئی سوالات بھی جنم لینے لگے۔
اس کے بعد پولیس کے اندرونی مالیاتی نظام کو کمزور کرنے کے لیے مین پڑیا اور گٹکا کے کاروبار کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہی وہ غیر قانونی آمدن تھی جس سے نہ صرف بعض تھانے چلائے جاتے تھے بلکہ سیاسی حلقوں، بعض افسران، میڈیا سے وابستہ عناصر اور دیگر بااثر افراد بھی مستفید ہوتے تھے۔ پہلے مرحلے میں کسٹمز کے ذریعے گٹکے کی بڑی کھیپیں پکڑی گئیں، جبکہ بعد ازاں رینج سطح کے افسران کو سخت کارروائیوں کا حکم دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق شہید بینظیر آباد رینج میں ایک پولیس اہلکار کی سرکاری رہائش گاہ پر حساس ادارے کی ٹیم نے چھاپہ مارا، جہاں مبینہ طور پر گٹکا ڈیلرز کے ساتھ ملاقات جاری تھی۔ کارروائی کے دوران دو ایس ایچ اوز، تین ڈیلرز اور ایک ریکوری اہلکار کو حراست میں لیے جانے کے بعد پولیس میں شدید بے چینی پھیل گئی۔
اس واقعے کے بعد سندھ بھر کے ڈی آئی جیز کی جانب سے سخت ہدایات جاری کی گئیں کہ اگر کسی تھانے کی حدود میں مین پڑیا یا گٹکا فروخت ہوتا پایا گیا تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی، جس میں معطلی اور سروس متاثر ہونے جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔
نتیجتاً سندھ بھر میں چھالیہ، سگریٹ اور گٹکے کی فروخت کے چھوٹے پوائنٹس پر پولیس نے اچانک کارروائیاں شروع کر دیں، درجنوں افراد کو گرفتار کر کے مقدمات درج کیے گئے، جس سے خوف کی فضا پیدا ہو گئی۔ تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں عوامی مفاد کے بجائے طاقت کے اظہار کا حصہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر متعلقہ ادارے واقعی عوامی مفاد میں مخلص ہوتے تو یہ اقدامات بہت پہلے کیے جاتے۔ اب بھی سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ صرف چھوٹے دکاندار ہی کیوں نشانے پر ہیں، جبکہ بڑے سپلائرز اور مرکزی کردار اب بھی قانون کی گرفت سے باہر دکھائی دیتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ محض منشیات کے خلاف جنگ نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کے درمیان اثر و رسوخ کی ایک نئی کشمکش ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ زور آزمائی مزید شدت اختیار کرتی ہے یا پھر پس پردہ معاملات طے پا جانے کے بعد پرانا نظام دوبارہ بحال ہو جاتا ہے۔
