
سندھ میں سرکاری اراضی اور مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے پرانے کیسز دوبارہ زیرِ تفتیش آگئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق نیب نے محکمۂ ریونیو سے 270 اراضی کیسز کا ریکارڈ طلب کیا ہے، جو 6 ہزار ایکڑ سے زائد زمین سے متعلق ہیں۔ کراچی کے ضلع ملیر میں 2 ہزار 315 ایکڑ پر مشتمل 117 اراضی کھاتوں میں تبدیلیوں کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔
بلدیاتی اداروں میں 13 ہزار سے زائد مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کی چھان بین جاری ہے، جبکہ 40 ارب روپے سے زائد کی مبینہ بدعنوانی کے 10 ریفرنسز بھی عدالتی حکم کے بعد دوبارہ احتساب عدالتوں میں آئے ہیں۔ یہ الزامات تاحال تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہیں؛ کسی متعلقہ فرد کا جرم ثابت نہیں ہوا۔



