
حیدرآباد(بیورورپورٹ)صوبائی محتسب سندھ سہیل راجپوت نے کہا ہے کہ سندھ میں محتسب کے پاس شکایات درج کرانے کے حوالے سے عوام میں تاحال شعور پیدا نہیں ہوسکا۔ تعلیم، پانی، ریونیو اور پولیس کے محکموں کے خلاف زیادہ شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محتسب سندھ نے کہا کہ حیدرآباد پریس کلب سے ان کا 28 سال پرانا تعلق ہے، پہلے وہ مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے یہاں آیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں صوبائی محتسب کا کوئی دفتر موجود نہیں تھا، تاہم 1991 میں ایک قانون کے ذریعے یہ دفتر قائم کیا گیا۔ وہ 33 سال بعد اس ادارے میں آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق سندھ کی آبادی ساڑھے پانچ کروڑ ہے اور صوبے میں مسائل کی بھرمار ہے، جبکہ عوام کی جانب سے بھی بڑی تعداد میں شکایات موصول ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال 20 ہزار جبکہ گزشتہ سال 25 ہزار شکایات موصول ہوئیں۔ عوام میں درخواستیں دینے کے حوالے سے شعور کی کمی ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے دورے بھی کیے ہیں، تاہم 33 سال گزرنے کے باوجود عوام کو محتسب اعلی کے دفتر اور شکایات درج کرانے کے طریقہ کار سے آگاہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف اداروں، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جا کر لوگوں کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مسائل کس طرح متعلقہ ادارے تک پہنچا سکتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں کھلی کچہریاں منعقد کی جاتی ہیں، تاہم شہروں میں ان کا انعقاد کم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کے ذریعے شکایات درج کرانے کے لیے ایپلی کیشن تیار کرنے کے ساتھ ویب سائٹ پر پورٹل بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں موصول ہونے والی درخواستوں پر تیزی سے کارروائی کی جاتی ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ شکایت یا درخواست پر 90 دن کے اندر کارروائی مکمل کی جائے۔ محتسب سندھ نے کہا کہ عدالتی نظام کے باعث محتسب اعلی کا ادارہ قائم کیا گیا تھا۔ کراچی واٹر بورڈ، پولیس ایس بی سی اے کا سنگین مسئلہ ہے، جس کے حوالے سے زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں، تاہم عوام میں شعور کی کمی کے باعث شکایات کی تعداد کم رہتی ہے۔ پولیس افسران، خصوصا ایس ایس پی کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور دو مرتبہ درخواست کے باوجود جواب نہ دینے پر سمن بھی بھیجے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی اور پولیس کے مسائل زیادہ ہیں، جبکہ اب تعلیم کے شعبے سے متعلق بھی بڑی تعداد میں شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ سندھ کے دیہی علاقوں سے پولیس، ریونیو اور تعلیم کے محکموں کے خلاف زیادہ شکایات آتی ہیں۔ تعلیم ایک اہم مسئلہ ہے، اگر بچے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل نہیں کرتے تو ان کا مستقبل متاثر ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کشمور سے کھارو چھان تک اسکولوں کے دورے کیے ہیں۔ اسکولوں میں بچوں سے ان کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کلرک بننے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں، ان میں بڑے خواب دیکھنے کا رجحان نہیں ہے، اس لیے بچوں کو مستقبل کے حوالے سے وسیع سوچ اپنانی چاہیے۔ سہیل راجپوت نے کہا کہ وہ میرپورخاص کے دورے کے دوران سندھڑی بھی گئے، جہاں اسکولوں میں اساتذہ موجود نہیں تھے۔ میرپورخاص میں پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے صحت کے شعبے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے کلثوم اسپتال میں علاج معالجے میں مبینہ غفلت کے باعث 170 بچے ایڈز کا شکار ہوئے، جنہیں اسپتال ہی سے ایڈز منتقل ہوا۔ یہ غریب خاندانوں کے بچے تھے۔ صحت کے شعبے میں بڑے مسائل موجود ہیں اور لاڑکانہ سے کراچی تک صورتحال تشویشناک ہے۔ کراچی میں ولیکا اسپتال کی سرنج کے ذریعے ایک ہی ماں کے چار بچے ایڈز کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک خراب ہو تو اس کی مرمت ہوجاتی ہے، لیکن تعلیم، صحت اور پانی کے مسائل انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایڈز کے معاملے میں 59 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی، جس پر ایک وکیل ہائی کورٹ چلا گیا اور عدالتی حکم کے بعد ان افراد کو سزا نہیں ہوسکی۔ ایڈز پھیلانے کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ذمہ داروں کو سزا نہیں دے سکتے، یہ قوانین بیرونی ممالک کے حکم پر بنائے گئے ہیں۔ سول اسپتال کے حوالے سے کوئی شکایات موصول نہیں ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیا مسائل کے حل کے لیے اسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کردیا جائے؟ اس حوالے سے واٹس ایپ پر بھی درخواست دی جاسکتی ہے۔
