
کراچی : محکمہ صحت نے چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں رواں سال خسرہ سے 40 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سندھ میں خسرہ کی وبا نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ، محکمہ صحت متعدی امراض پر قابو پانے میں بری طرح ناکام نظر آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں معصوم بچوں کی اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا۔
رواں سال کے دوران سندھ میں خسرہ کے باعث اب تک 40 بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 11 سو 83 بچے خسرہ کا شکار ہو چکے ہیں۔
رواں سال فروری سے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوا، جو اب ایک وبائی شکل اختیار کر چکا ہے، ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر خالد شفیع اور دیگر طبی ماہرین نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی بچاؤ کی مہمات خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں ، کیسز میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ والدین کا اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے (ویکسین) نہ لگوانا ہے۔
ستمبر میں گھر گھر جا کر مہم چلائی گئی اور والدین سے درخواست کی گئی، لیکن تعاون کی کمی کے باعث مسئلہ جوں کا توں ہے۔
ڈاکٹر خالد شفیع کا کہنا ہے کہ خسرہ ایک جان لیوا بیماری ثابت ہو رہی ہے اور اس سے بچاؤ کا واحد حل صرف اور صرف ویکسینیشن ہے۔
انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے بچوں کی زندگی محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروائیں۔
