سندھ تقسیم کے خلاف ہیں، صوبہ بنانے کا آئینی راستہ موجود ہے، سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانے کا آئین میں طریقہ کار موجود ہے، تاہم سندھ میں آج تک کسی سیاسی جماعت یا فرد نے سندھ اسمبلی میں آئینی طریقہ اختیار نہیں کیا، کیونکہ سندھ کے تمام لوگ صوبے کی تقسیم کے خلاف ہیں۔سعید غنی نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی راستہ اختیار کیا گیا ہے، جبکہ سندھ میں مختلف گروہ الگ صوبے کی بات تو کرتے ہیں لیکن آج تک کسی نے اس حوالے سے آئینی طریقہ اختیار نہیں کیا۔صوبائی وزیر نے 2024 کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ نواز شریف، مریم نواز اور شہباز شریف جیتے تھے یا ہارے تھے، جبکہ سندھ سے بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری، فریال تالپور اور مراد علی شاہ سمیت دیگر امیدوار انتخابات جیت کر آئے ہیں۔کشمیر کے انتخابات سے متعلق سعید غنی نے الزام عائد کیا کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز راجہ پرویز اشرف نے دھاندلی کے شواہد پیش کیے اور بتایا کہ کن پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی کے ذریعے پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدواروں کو ناکام قرار دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بھی دھاندلی کی گئی اور اب کشمیر کے انتخابات میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی ہے، ہمارا اعتراض صرف دھاندلی پر ہے اور انتخابات صاف و شفاف ہونے چاہئیں۔سعید غنی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی کی زبان بندی نہیں کی جاسکتی، جبکہ ریاست کا مطلب اسٹیٹ ہے۔ولیکا اسپتال واقعہ، ذمہ داروں کے خلاف کرمنل کیسز کا اعلانولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ اسپتال میں انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے اور یہ مجرمانہ غفلت کا معاملہ ہے۔ واقعے کی ہر سطح پر تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داران کے خلاف کرمنل کیسز بھی دائر کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کی مالی مدد کا فیصلہ پہلے ہی کیا جاچکا ہے، جبکہ متاثرین اور ان کے اہلخانہ کی فلاح و بہبود کے لیے اینڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔ فنڈ کی نگرانی کے لیے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل آزاد اور خودمختار اسٹینڈنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔تین سال میں ساڑھے 3 ہزار نوجوانوں کو ہنر سکھا دیا، سعید غنیاس سے قبل گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ اعظم بستی میں زیبسٹ زیب ٹیک کے تحت مختلف کورسز مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات میں گریجویشن سرٹیفیکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ حکومت تمام نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم نہیں کرسکتی، اس لیے نوجوانوں کو ہنرمند بنانا ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگست 2023 سے اب تک تین سال کے دوران ساڑھے 3 ہزار سے زائد نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دی جاچکی ہے، جبکہ ہدف پانچ سال میں 5 ہزار نوجوانوں کو ہنر سکھانا تھا۔سعید غنی نے کہا کہ جس عمارت میں آج یہ ادارہ قائم ہے، وہ ایک وقت میں تباہ حال تھی اور منشیات کے عادی افراد کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی۔ حکومت سندھ نے عمارت کی بحالی کی منظوری دی اور زیب ٹیک کے اشتراک سے اسے دوبارہ فعال کرکے نوجوانوں کو فنی تعلیم کی فراہمی شروع کی گئی۔انہوں نے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ تربیت حاصل کرنے والوں میں بڑی تعداد طالبات کی بھی ہے، جو ہنر سیکھنے کے بعد اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرسکیں گی۔تقریب سے زیبسٹ زیب ٹیک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر وحیدہ مہیسر، ہیڈ آف چیپٹر نورالعین چانڈیو اور دیگر نے بھی خطاب کیا، جبکہ تقریب میں یو سی 7 کے چیئرمین طارق آفریدی، پیپلز پارٹی کے فدا حسین تنولی، تاجر، سماجی شخصیات اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*