
اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دھرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہمارا ایشو صرف دہشت گردی ہے، دھرنے کو موخر کرنے والی شرط پیپلز پارٹی کی تھی ہم نے کبھی نہیں کہا کہ دھرنا ختم کریں۔یہ بات انہوں ںے وزرا اعظم نذیر تاڑر اور عطا تاڑر کے ساتھ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج کا دن آسان دن نہیں تھا، ایک ماہ سے مسلسل کوشش کرتے رہے کہ کے پی حکومت کو آن بورڈ کرسکیں، بیک گرؤانڈ میں خود کے پی حکومت سے رابطے میں تھا، لانگ مارچ کے لیے جو باتیں کیں وہ ہو رہی تھیں ملاقاتیں اور دیگر معامالات چل رہے تھے، وزیراعظم نے نیویارک کے لیے 17ستمبر کو نکلنا تھا، یہ طے ہوا کہ کہ وہ جانے سے قبل اپوزیشن سے ملیں گے، ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا، پندرہ یا سولہ اکتوبر کو ملاقات ہونی تھی، مگر کوئی جواب نہ ملا، پھر بھی رابطہ رہا صدر اور وزیراعظم کی ملاقات ہوئی میں نے کہا کہ آپ کے پی حکومت کو آن بورڈ کر لیں اگلے دن چار دفعہ ڈرافٹ تبدیل ہوا، جب چیزیں فائنل ہوئی تو پتہ چلا کہ نیا ڈرافٹ آگیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ کل رات پونے بارہ بجے میرا پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ رہا، ایک پیرا میں تجویز تھی مگر ان کا کوئی جواب نہیں آیا، آخری کال رات پونے بارہ بجے کی تھی جس میں کہا کہ ابھی بھی کچھ ہو سکتا ہے پھر بھی کوئی جواب نہ آیا، فضل الرحمان کی پی ایم سے ملاقات ہوئی، ہماری جب بھی ان سے بات ہوتی تھی ہم کہتے تھے کہ دھرنے سے ہمیں مسئلہ نہیں ہے ہمارا ایشو صرف دہشت گردی ہے، ان کے ساتھ ہم رابطے میں تھے، پہلے بھی ہم نے ہی پی ٹی آئی سے رابطہ کیا، دھرنے کو موخر کرنے والی شرط پی پی پی کی تھی ہم نے کبھی نہیں کہا کہ دھرنا ختم کریں، آپ شوق سے دھرنا دیں ہماری توجہ انسداد دہشت گردی پر ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ کے پی کے میں صورتحال بہت خراب ہے، کچھ اضلاع میں لوگ شام وقت باہر نہیں نکل سکتے، کل الیکشن کمیشن کے آفیسر کی ڈیتھ ہوئی، سہیل آفریدی سے ہماری کافی ملاقاتیں ہوئی اور ٹاپک صرف دہشت گردی ہوتا تھا، آپ ان سے پوچھیں کہ ہم نے پلان نہیں بنایا کہ اضلاع میں پولیس میں مضبوط کریں؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں پیسوں کا مسئلہ ہے، میں نے انہیں کہا جہاں پیسوں کو مسئلہ ہے وہ ہم پورا کریں گے، مذاکرات کے دوران انہوں نے ہم سے اتفاق کیا کہ ہاں ان اضلاع میں ایمرجنسی لگنی چاہیے،
کوئی ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں تھا، ہمارے ساتھ تصاویر جاری کرنے میں ان کو مسئلہ ہوتا تھا، میں نے کبھی انہیں نہیں کہا کہ آپ تصویر بنائیں یا جاری کریں۔
محسن نقوی نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ دہشت گردی کے اوپر ہم اپنے جوانوں کی جانیں گنوائیں اور کے پی حکومت اس کو اوون نہ کرے، دہشت گردی سے کسی بھی صورت اکیلے نہیں لڑا جا سکتا، مل کر لڑنا پڑتا ہے، یہ جو مشکل فیصلہ ہم نے کیا ہے اس کا ایک بیک گراؤنڈ ہے، ہم نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح اس کو روکا جا سکے، پچھلے ڈیڑھ سال کے اندر 518 پولیس والے شہید ہوئے ہیں، کل رات کو بھی اگر ان کی ہاں آ جاتی تو یہ صورتحال نہیں بنتی، آپ ان سے پوچھیں کہ وہ کون لوگ تھے جو ان چیزوں کو سبوتاژ کرتے تھے؟ مجبورا ہمیں گورنر راج لگانا پڑا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تاڑر
وزیر قانون اعظم نذیر تاڑر نے کہا کہ وزیر داخلہ نے جو باتیں کی ہیں، اس حوالے سے وزیراعظم نے صدر مملکت کو آگاہ کیا، گورنر نے اپنی رپورٹ وفاق کو بھجوائی جو ان کی آئینی ذمہ داری ہے، پچھلے دو سے اڑھائی سال میں دہشت گردی کے واقعات میں 196فیصد اضافہ ہوا، شہادتوں اور گاڑیوں کے نقصان میں بھی اسی طرح اضافہ ہوا، فوج، پولیس، دینی رہنماوں پر حملے بڑھ چکے ہیں، صدر مملکت نے آئین میں رہتے ہوئے اقدام اٹھایا ہے، آئین میں واضح ہے کہ یہاں امن اومان کی صورتحال کا معاملہ ہو تو وفاق مداخلت کر سکتا ہے، وزیراعظم کے مشورے پر صدر نے ایمرجنسی کا نفاذ کا اعلان کیا ہے، حالات ایسے تھے کہ ایمرجنسی اور گورنر کے آرٹیکل کا اطلاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا گیا ہے اور گورنر کو آئین کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے، گیارہ رکنی ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، بارہ اضلاع میں ایک سیکریٹریٹ قائم کیا ہے، وہاں سے ڈائریکٹ وفاق کو رپورٹ کیا جائے گا، ایک کونسل بنائی گئی ہے، ایڈیشنل چیف سیکرٹری کونسل کو سنبھالے گا تمام آئینی عہدوں رکھنے والوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے، آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات کردی گئی ہے۔
