
قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے ملک میں ماحول دوست سواریوں کے فروغ کے لیے "نئی انرجی وہیکلز پالیسی 2030-2025” پیش کر دی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کی حوصلہ افزائی کے لیے دو پہیوں والی الیکٹرک بائیک پر 80 ہزار روپے اور تین پہیوں والی گاڑی (رکشہ وغیرہ) پر 4 لاکھ روپے تک کی بڑی سبسڈی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومتی بریفنگ کے مطابق سال 2030 تک ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار پبلک چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں موٹرویز اور قومی شاہراہ (N-5) پر 40 فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز بنائے جائیں گے۔ علاوہ ازیں، موجودہ پٹرول پمپس پر بھی چارجنگ پوائنٹس کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ الیکٹرک موٹرز، بیٹریوں اور چارجرز کی مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ بڑھا کر درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے اور استعمال شدہ بیٹریوں کی ری سائیکلنگ کا جامع نظام تشکیل دیا جا سکے۔
