ریاض میں حوثی کروز میزائلوں کو روکنے کے بعد ان کا ملبہ رہائشی علاقوں میں گرا جس میں 4 افراد زخمی ہوگئے۔

یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب میں تیل کی بڑی کمپنی آرامکو کی تنصیبات، ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دارالحکومت میں واقع آرامکو کی آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، سعودی عرب کے مشرقی شہر ظہران میں آرامکو کے مرکزی دفتر کی عمارت کو منگل کی شب حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔
سعودی وزارتِ توانائی نے واقعے کی تصدیق کی، تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
گلف نیوز کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دو حوثی کروز میزائلوں کو روکنے کے بعد ان کا ملبہ رہائشی علاقوں میں گرا جس میں 4 افراد زخمی ہوگئے۔
زخمیوں میں دو خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ شامل ہیں۔ سعودی شہری دفاع کے مطابق واقعے میں تقریباً 15 رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔
حکام نے بتایا کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب سعودی عرب میں اہم تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعووں کے بعد سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ آنے والے دنوں میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کے خلاف مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت کے باعث اہم تنصیبات، شہریوں کی سلامتی اور عالمی فضائی و توانائی کی ترسیل کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
