
کراچی: جامعہ کراچی میں ڈیجیٹل تبدیلی کا جامع منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی نے تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کی ہدایت پر ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبے کے لیے نو رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
سندھ حکومت کے ڈیجیٹل گورننس وژن کے مطابق شفافیت، انتظامی کارکردگی اور عالمی مسابقت کے فروغ کے لیے روڈ میپ تیار کیا جائے گا کمیٹی چار ورکنگ دنوں میں تفصیلی پی سی ون سمیت سفارشات پیش کرے گی
جامعہ کراچی نے اپنے تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ادارہ جاتی شفافیت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی جامعات کی درجہ بندی میں اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے جامع ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبے کا آغاز کردیا ہے۔
اس سلسلے میں وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے نمائندوں پر مشتمل نو رکنی کمیٹی قائم کردی ہے، جو جامعہ کے تمام متعلقہ نظام، امور اور دفتری طریقۂ کار کو ڈیجیٹلائز اور خودکار بنانے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کرے گی۔
یہ اقدام سندھ حکومت کے ڈیجیٹل گورننس کے وسیع تر وژن سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں میں شفاف طرزِ حکمرانی، مؤثر انتظامی نظام، عوامی خدمات کی بہتر فراہمی اور علم پر مبنی معاشرے کی تشکیل کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، ڈیجیٹل تبدیلی اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر زور دیتے رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بھی سرکاری خدمات تک رسائی بہتر بنانے اور انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
جامعہ کراچی کا یہ منصوبہ ان ترجیحات کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں عملی شکل دینے کی کوشش ہے، جس کے تحت ایک ایسی جدید سرکاری جامعہ کی تشکیل مقصود ہے جہاں تدریس، تحقیق، انتظامی امور اور ادارہ جاتی نظم و نسق بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دیے جاسکیں۔
طلبہ کو جامعہ کی خدمات تک موبائل فون کے ذریعے رسائی حاصل ہوگی
مجوزہ ڈیجیٹل نظام کے تحت طلبہ اپنے موبائل فون کے ذریعے جامعہ سے متعلق اہم معلومات اور مختلف تعلیمی و انتظامی سہولیات تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ ان سہولیات میں کورس کا مواد، لیکچر نوٹس، اسائنمنٹس، امتحانی و تعلیمی جائزے، حاضری کا ریکارڈ، امتحانی شیڈول، نتائج، ٹرانسکرپٹس، اسناد کا اجرا اور لائبریری کے وسائل شامل ہوں گے۔
مجوزہ ڈیجیٹل نظام میں داخلوں، انرولمنٹ، کورسز کی تخصیص، ٹائم ٹیبل، تعلیمی پیش رفت کی نگرانی، روزگار کے مواقع اور سابق طلبہ سے رابطے کے نظام کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اس طرح طلبہ اپنی تعلیمی معلومات حاصل کرنے کے علاوہ متعلقہ درخواستوں اور انتظامی کارروائیوں کی پیش رفت بھی آن لائن دیکھ سکیں گے، جس سے انہیں معمولی امور کے لیے بار بار جامعہ کے مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت کم ہوگی۔
اسی طرح اساتذہ کو کورس مینجمنٹ، طلبہ کی جانچ، حاضری کی نگرانی، تعلیمی ریکارڈ کی تیاری اور تدریسی سرگرمیوں کے لیے ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ آن لائن نظام کے ذریعے جامعہ کے اندر رابطہ کاری بہتر بنانے اور نوٹیفکیشنز، شیڈول، فیصلوں اور دیگر سرکاری معلومات کی بروقت فراہمی کو بھی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم محمود کمیٹی کے کنوینر مقرر
رجسٹرار جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر عمران احمد صدیقی کی جانب سے اتوار، 11 اکتوبر 2026ء کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، شعبہ کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم محمود کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے دیگر ارکان میں شعبہ کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید، کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول کے ڈاکٹر صہیب الزمان، انچارج سمسٹر سیل پروفیسر ڈاکٹر تنویر عباس، شعبہ ریاضی کے پروفیسر ڈاکٹر نجیب عالم خان، ڈاکٹر محمودحسین لائبریری کی رابعہ تصدق، ڈائریکٹر فنانس سید جہانزیب اور دفترِ رجسٹرار کے سید فرمان رسول شامل ہیں، جبکہ مین کمیونیکیشن نیٹ ورک کے اشفاق خنزادہ کمیٹی کے سیکریٹری ہوں گے۔
کمیٹی کو جامعہ کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرنے، موزوں لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) تجویز کرنے، تعلیمی و انتظامی امور کے لیے مربوط ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کی سفارش کرنے اور موجودہ آئی ٹی انفراسٹرکچر کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے درکار انسانی وسائل اور مالی ضروریات کا تعین بھی کمیٹی کے فرائض میں شامل ہے۔
کمیٹی سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کی ضروریات، مختلف نظاموں کے باہمی انضمام، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ اور منصوبے پر عمل درآمد کی مؤثر نگرانی کے لیے مناسب طریقۂ کار تجویز کرے گی۔
کاغذی کارروائی میں کمی، مالیاتی امور میں شفافیت اور مؤثر نگرانی
جامعہ کی ڈیجیٹل تبدیلی کا دائرہ انسانی وسائل کے انتظام، ملازمین کے ریکارڈ، بھرتیوں، تنخواہوں، بجٹ، حسابات، خریداری، اسٹاک و اثاثہ جات کے انتظام، سرکاری خط و کتابت، فائلوں کی نقل و حرکت، دستاویزات کے نظم و نسق اور ادارہ جاتی رپورٹس تک وسیع ہوگا۔
مجوزہ ڈیجیٹل ورک فلو کے ذریعے درخواستوں، منظوریوں اور انتظامی فیصلوں کی کارروائی آن لائن انجام دینے اور ان کی پیش رفت کا ریکارڈ رکھنے میں مدد ملے گی۔ مجاز افسران کی منظوری اور آڈٹ ٹریل کے نظام کے ذریعے فیصلہ سازی کے مراحل کو قابلِ سراغ بنایا جاسکے گا۔
اس اقدام کا مقصد کاغذی کارروائی کم کرنا، غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ، داخلی نگرانی کو مضبوط بنانا اور جامعہ کے مختلف شعبوں میں جواب دہی کو فروغ دینا ہے۔
کمیٹی جامعہ کے موجودہ آئی ٹی انفراسٹرکچر، بشمول سرورز، ڈیٹا سینٹرز، کیمپس نیٹ ورک، انٹرنیٹ بینڈوڈتھ، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا بیک اَپ اور ہنگامی صورتِ حال میں نظام کی بحالی کے انتظامات کا بھی جائزہ لے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی ماہرین، متعلقہ عملے، تربیت اور تنظیمی سطح پر درکار انتظامات کی نشاندہی کی جائے گی، تاکہ منصوبے پر مؤثر عمل درآمد اور طویل مدتی بنیادوں پر اس کا تسلسل یقینی بنایا جاسکے۔
چار ورکنگ دنوں میں تفصیلی پی سی ون سمیت سفارشات پیش کرنے کی ہدایت
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد چار ورکنگ دنوں کے اندر جامع تجاویز پر مشتمل رپورٹ اور تفصیلی پی سی ون (PC-I) پیش کرے۔
رپورٹ میں منصوبے کا بنیادی تصور، عمل درآمد کا مجوزہ طریقۂ کار، تکنیکی خصوصیات، موجودہ اور مطلوبہ آئی ٹی انفراسٹرکچر کا جائزہ، درکار انسانی وسائل، سرمایہ جاتی اور جاری اخراجات کی تفصیلات، مرحلہ وار عمل درآمد کا شیڈول، خریداری کا طریقۂ کار، مالی وسائل کی ضروریات اور منصوبے کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کا منصوبہ شامل ہوگا۔
تمام ڈینز، چیئرپرسنز، ڈائریکٹرز، انتظامی سربراہان اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور مقررہ مدت میں کام کی تکمیل کے لیے درکار معلومات اور ریکارڈ فراہم کریں۔
رجسٹرار اور ڈائریکٹر فنانس بالترتیب انتظامی رابطہ کاری اور مالی تخمینوں کی تیاری میں معاونت فراہم کریں گے، جبکہ متعلقہ تکنیکی عملہ ضروری فنی معاونت فراہم کرے گا۔ کمیٹی اپنی سفارشات مقررہ مدت کے اندر براہِ راست وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کو پیش کرے گی۔
ڈیجیٹل سندھ کے وژن اور بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار سے ہم آہنگ اقدام
جامعہ کراچی کا یہ منصوبہ سرکاری خدمات کی بہتری، کاغذ سے پاک انتظامی نظام، شفافیت و جواب دہی کے فروغ اور سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے متعلق صوبائی حکومت کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔ محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی سندھ کی ترجیحات میں ای گورننس، ادارہ جاتی نظاموں کا انضمام، معلومات کا تبادلہ اور پائیدار آئی ٹی نظام کی ترقی بھی شامل ہیں۔
جامعہ کراچی اس تصور کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نافذ کرنے کے لیے اپنے تعلیمی شعبہ جات، امتحانات اور انرولمنٹ دفاتر، لائبریریوں، شعبہ مالیات، انسانی وسائل اور مرکزی انتظامیہ کو مربوط ڈیجیٹل نظام کے تحت منسلک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس اقدام سے تحقیقی کارکردگی، تعلیمی معیار، طلبہ کی تعلیمی پیش رفت، بین الاقوامی اشتراک اور دیگر ادارہ جاتی اشاریوں کی نگرانی کی صلاحیت بھی بہتر ہونے کی توقع ہے، جو بین الاقوامی معیار کے مطابق جامعات کی کارکردگی جانچنے اور عالمی درجہ بندی میں ادارے کی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے اہم ہیں۔
اگرچہ صرف ڈیجیٹلائزیشن سے عالمی درجہ بندی میں بہتری کی ضمانت نہیں دی جاسکتی، تاہم مستند ادارہ جاتی ڈیٹا، مؤثر تعلیمی نظام اور بہتر تحقیقی انتظام اس مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کے وژن کے تحت اس اقدام کا مقصد محض موجودہ دفتری طریقۂ کار کو کمپیوٹرائز کرنا نہیں، بلکہ جامعہ کے مجموعی نظامِ کار، خدمات کی فراہمی اور فیصلہ سازی کے عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
طویل المدتی طور پر اس منصوبے کے ذریعے جامعہ کراچی کو ایک جدید، شفاف، ٹیکنالوجی سے آراستہ اور عالمی تعلیمی اداروں سے مربوط سرکاری جامعہ کے طور پر ترقی دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ یہ ادارہ سندھ حکومت کے ڈیجیٹل گورننس کے وژن سے ہم آہنگ رہتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر نمایاں جامعات کے ساتھ مسابقت کی بہتر صلاحیت حاصل کرسکے۔
