
جامعہ کراچی میں سابق وائس چانسلر طفیل جوکھیو کی منظوری سے فیل طالب علموں کو پاس کرنے کے معاملے پر ناظم امتحانات ڈاکٹر یاسر کو عہدے سے ہٹادیا گیا اور ان کی جگہ فوڈ سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سیدغفران کو ناظم امتحانات مقرر کر دیا گیا۔
جامعہ کراچی کے سبکدوش وائس چانسلر کے صرف 2ماہ کے عرصے میں امتحانی نتائج میں رد و بدل کا انکشاف ہوا، شعبہ امتحان نے رئیس کلیہ قانون کی جانب سے اسکروٹنی کی تحریری سفارش پر یہ اقدام اٹھایا۔
تحریری سفارش پر قائم مقام وائس چانسلر کی منظوری سے لاء کالج کے150کے قریب طلبا کو 2مضامین میں پاس کر دیا گیا حالانکہ ایس ایم لاء اور اسلامیہ لاء کالج کے 150سے زائد طلبا جاری کردہ نتائج میں فیل تھے۔
بڑی تعداد میں ان فیل طلبا کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی بنا کر بی اے اور ایل ایل بی میں پاس کیا تو سابق مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے اپنے دور میں اس معاملے کو روک دیا تھا۔
یونیورسٹی قوائد کے تحت پرچوں کی اسکروٹنی کیلئے انفرادی درخواست دینی پڑتی ہے اور اسکروٹنی رولز میں اینوویل سسٹم میں صرف ری کاونٹنگ ہوتی ہے کاپیوں کی ری چیکنگ نہیں کی جاسکتی، اس لئے درخواست سابقہ مستقل وائس چانسلر نے درخواست روک دی تھی۔
سابق ناظم امتحان ڈاکٹر یاسر کا کہنا ہے کہ کسی کو فیل یا پاس نہیں کیا گیامزید کچھ نہیں کہوں گا ۔
رئیس کلیہ قانون بیرسٹر سرفراز میتلو نے کہا کہ ہم نے وائس چانسلر کی منظوری لیکراسکروٹنی کمیٹی بنائی تھی طلبا کیساتھ زیادتی ہوئی تھی، دونوں پرنسپلز اور ناظم امتحانات کی موجودگی میں دوبارہ کاپیوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی، کسی صفر مارک کے حامل طالبعلموں کو پاس نہیں کیا جب کہ یونیورسٹی قانون میں دوبارہ کاپیوں کی جانچ کرانے کی گنجائش ہے۔

