
خضدار: بلوچستان کی تاریخ میں پہلی خاتون اہلکار دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئیں، معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے شہید ملک ناز کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع خضدار میں وطن کی ایک اور بیٹی نے بہادری کی نئی تاریخ رقم کر دی۔
خضدار کے علاقے باغبانہ میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں لیڈی کانسٹیبل ملک ناز نے جامِ شہادت نوش کیا، وہ بلوچستان کی تاریخ میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے والی پہلی خاتون پولیس اہلکار بن گئی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ باغبانہ کے علاقے میں چوری کی اطلاع پر پولیس ٹیم وہاں پہنچی تو پہلے سے گھات لگائے دہشت گردوں نے پولیس پارٹی کو گھیر لیا اور ہتھیار پھینکنے کا حکم دیا۔
پولیس اہلکاروں نے سرینڈر کرنے کے بجائے مادرِ وطن کے دفاع کو ترجیح دی اور مقابلہ شروع کر دیا ، اس دوران لیڈی کانسٹیبل ملک ناز اور ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ موقع پر ہی شہید ہو گئے، دو پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے شہید ملک ناز کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک ناز کا خاندان قربانیوں کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔
شہید ملک ناز کے شوہر بھی لیویز فورس میں خدمات انجام دے رہے تھے جو دورانِ ڈیوٹی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو کر شہید ہوئے تھے، شہید ملک ناز نے اپنے پیچھے تین کمسن بچے چھوڑے ہیں۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ شہید ملک ناز نے عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پورے صوبے کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
سی ٹی ڈی واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا، حکومت شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا، امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔
