اسلام آباد مفاہمت کے تحت 60 روزہ جنگ بندی کی مدت 17 اگست کو ختم ہوگی۔

امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والی 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کردی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کی مدت میں اضافے کی حتمی مدت تاحال طے نہیں ہوسکی۔ پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں نے ثالثوں کے ذریعے جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق رائے سے آگاہ کردیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے ’انادولو‘ نے پاکستانی حکومت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں جانب سے ثالثوں کو اپنی رضامندی پہنچا دی گئی ہے۔
ثالثی کے عمل سے باخبر ایک ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ جنگ بندی کو آگے بڑھایا جائے، تاہم یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ جنگ بندی میں کتنے عرصے کی توسیع کی جائے گی۔ اس حوالے سے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
اسلام آباد مفاہمت کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان جاری 60 روزہ جنگ بندی کی موجودہ مدت 17 اگست کو ختم ہورہی ہے۔ اس سے قبل خدشات پیدا ہوگئے تھے کہ مدت مکمل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے، تاہم تازہ پیش رفت سے جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ مفاہمتی عمل پاکستان کی ثالثی سے شروع ہوا تھا۔ دونوں ممالک نے اپریل میں پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کے بعد 17 جون کو اسلام آباد میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس یادداشت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حتمی سمجھوتے کی جانب لے جانا تھا۔
تاہم جنگ بندی کے بعد شروع ہونے والا مذاکراتی عمل متعدد اہم معاملات پر اختلافات کے باعث آگے نہ بڑھ سکا۔ فریقین کے درمیان سیکیورٹی ضمانتوں، امریکی پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سمیت مختلف امور پر اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث حتمی معاہدے کی طرف پیش رفت رک گئی۔
گذشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے امریکی خبر رساں ادارے ’بلومبرگ‘ کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے سخت مؤقف کے باوجود پاکستان اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بحران کے حل اور خطے میں امن کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سے تین روز کے دوران ملنے والے اشارے بتاتے ہیں کہ امریکا اور ایران کسی نہ کسی انتظام یا سمجھوتے کے قریب ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کے معاملے کو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ حالات اب امن اور مفاہمت کے حق میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ منگل کے روز وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے دورۂ تہران کے دوران ایران کی اعلٰی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی حکام نے پاکستان کے سفارتی کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور قطر کی ثالثی کی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
بدھ کے روز ترجمان دفترِ خارجہ نے بھی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان چیلنجز کے باوجود خطے میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بطور ثالث پرامید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمت کے حوالے سے پاکستان اپنا موقف پہلے ہی واضح کرچکا ہے۔
ان کے مطابق جب فریقین کشیدگی اور تنازع سے تھک جائیں گے تو امن کا جو فریم ورک اسلام آباد مفاہمت پیش کرتا ہے، وہی مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اسلام آباد مفاہمت پر عملدرآمد کی مدت ختم ہونے میں 5 روز باقی ہیں۔
اسلام آباد مفاہمت کے تحت امریکا اور ایران نے 17 جون کو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد جنگ بندی کو مزید 60 روز کے لیے برقرار رکھتے ہوئے اس دوران مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے، ایران کو تیل کی برآمد اور بعض مالی و تجارتی سہولتوں کی فراہمی سمیت متعدد معاملات پر فریقین نے اصولی اتفاق کیا تھا۔
تاہم مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں کی تشریح پر ابتدا ہی سے اختلافات سامنے آتے رہے۔ بالخصوص آبنائے ہرمز سے متعلق شق کے تحت تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت پر ایران اور امریکا کے مؤقف مختلف رہے، جب کہ ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل کی برآمد اور امریکی پابندیوں میں نرمی جیسے معاملات بھی حتمی سمجھوتے کی راہ میں اہم رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان اور قطر حالیہ عرصے سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی سفارتی کوششوں کا مقصد فریقین کو ایسے سمجھوتے تک پہنچانا ہے جس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو بل کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بھی بحال ہوسکے۔
آبنائے ہرمز اس تنازع میں ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کے تعین کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے، تاہم تہران کا مؤقف ہے کہ اس آبی گزرگاہ میں مکمل بحری آمدورفت اسی صورت بحال ہوسکتی ہے جب امریکا مفاہمتی سمجھوتے کی شرائط پر عمل درآمد کرے۔
ایران پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ امریکی پابندیوں، فوجی دباؤ اور مفاہمتی شرائط کی خلاف ورزی ختم کیے بغیر واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کیے جاسکتے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی نے سمندری تجارت اور توانائی کی عالمی ترسیل کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے اس میں پیدا ہونے والی رکاوٹ عالمی منڈیوں اور توانائی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
اس دوران رواں سال 8 سے 24 جولائی کے درمیان امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ واشنگٹن نے ایران کے اندر مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جب کہ تہران نے جواباً اردن، بحرین اور کویت سمیت خطے کے مختلف ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات اور متعلقہ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
جنگ بندی میں توسیع پر ابتدائی اتفاق کو اسی تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ اس سے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ براہِ راست تصادم کے خدشات کم ہوسکتے ہیں اور ثالثی کے ذریعے تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
تاہم جنگ بندی میں توسیع کی حتمی مدت اور اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ التوا معاملات پر ہونے والی پیش رفت کا انحصار آنے والے دنوں میں دونوں فریقوں کے درمیان جاری پیغامات اور ثالثی کی کوششوں پر ہوگا۔
