اقوام متحدہ کے عالمی دن کا پیغام — امن کی تجدید کا اعلان

کالم نگار: محمد رمضان چھیپا

ہر سال 24 اکتوبر کو جب دنیا اقوام متحدہ کا عالمی دن مناتی ہے، تو یہ صرف ایک ادارے کی سالگرہ کا دن نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید کا دن بھی ہوتا ہے جو 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر بنی نوع انسان نے اپنے آپ سے کیا تھا کہ ’’ہم آئندہ نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے‘‘۔ سابق امریکی صدر، ہیری ایس ٹرومین نے اقوام متحدہ کے قیام کے وقت خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمیں بہتر دنیا کی تشکیل کا معیار بنانا ہوگا‘‘۔ یعنی بہتر دنیا کی تعمیر و ترقی، وہ مقصد اور وہ مدف ہے جس کے لیے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، اور بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو اس ادارے کی 81 ویں سالگرہ پر انسانی برادری بڑے فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہے کہ مشکلات کے باوجود بہتر دنیا کی تعمیر و ترقی کے لیے اقوام متحدہ نے اپنا اہم کردار ادا کیا ہے، اقوام متحدہ آج 195 ممالک کا وہ عالمی فورم ہے جہاں چھوٹے سے چھوٹے ملک کی آواز بھی سنی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کا منشور صرف تین لفظوں پر کھڑا ہے: امن، ترقی اور انسانی حقوق، اور ان تینوں اہداف کے حصول کیلئے ادارے کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ بعض جنگی تنازعات کے خاتمے میں رکاوٹوں کے باوجود اقوام متحدہ کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور منظم دنیا بھر میں صحت، تعلیم اور امن کے شعبوں میں مثالی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

میرا مذہب انسانیت ہے

محمد رمضان چھیپا (سماجی کارکن) (چھیپا صاحب)

اقوام متحدہ کا دن صرف ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ انسانیت، امن اور ترقی کے عزم کا اعادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد ایک ایسی دنیا کی تشکیل تھا جہاں ہر انسان کو عزت، انصاف اور بنیادی حقوق حاصل ہوں۔

2015 میں بہتر دنیا کی تعمیر کیلئے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک نے 2030 تک انسانیت کی پائیدار ترقی کیلئے بعض اہداف مقرر کیے ہیں جن میں غربت اور بھوک کا خاتمہ، بہتر صحت، معیاری تعلیم، صنفی مساوات، پینے کیلئے صاف پانی، توانائی کے ذرائع کی ترقی، معاشی ترقی، صنعتوں، ایجادات اور انفراسٹرکچر کا فروغ اور قیام، ہر قسم کے امتیاز کا خاتمہ، پائیدار شہری ترقی، موسمیاتی بہتری کیلئے ضروری اقدامات، زمین پر پانی پائے جانے والی حیات درخت، جانور، پرندوں اور آبی حیات کا تحفظ، امن، انصاف کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے امن مشن ہوں یا دیگر فلاحی پروجیکٹس، پاکستان نے ہمیشہ ادارے کی سماجی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ فوج بھیجنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ ہمارے جوانوں نے کئی برسوں سے لے کر اب تک امن کی خاطر جانیں قربان کی ہیں جن کا اعتراف عالمی برادری بڑی شان و شوکت سے کرتی ہے۔

اقوام متحدہ نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور ان کی آبادی کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

2015 میں بہتر دنیا کی تعمیر کیلئے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک نے 2030 تک انسانیت کی پائیدار ترقی کیلئے بعض اہداف مقرر کیے ہیں جن میں غربت اور بھوک کا خاتمہ، بہتر صحت، معیاری تعلیم، صنفی مساوات، پینے کیلئے صاف پانی، توانائی کے ذرائع کی ترقی، معاشی ترقی، صنعتوں، ایجادات اور انفراسٹرکچر کا فروغ اور قیام، ہر قسم کے امتیاز کا خاتمہ، پائیدار شہری ترقی، موسمیاتی بہتری کیلئے ضروری اقدامات، زمین پر پانی پائے جانے والی حیات درخت، جانور، پرندوں اور آبی حیات کا تحفظ، امن، انصاف کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے امن مشن ہوں یا دیگر فلاحی پروجیکٹس، پاکستان نے ہمیشہ ادارے کی سماجی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ فوج بھیجنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ ہمارے جوانوں نے کئی برسوں سے لے کر اب تک امن کی خاطر جانیں قربان کی ہیں جن کا اعتراف عالمی برادری بڑی شان و شوکت سے کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور منظم دنیا بھر میں صحت، تعلیم اور امن کے شعبوں میں مثالی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن، ترقی اور انسانیت کی خدمت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔

بانی و سربراہ، چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن (قائم شدہ 1987ء)۔ آپ کو بلا تفریق انسانیت خدمات، کووڈ-19 میں نمایاں کردار اور فلاحی اقدامات پر حکومت پاکستان کی طرف سے ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز اور کراچی یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ آف لِٹرز (D.Litt.) کی ڈگری سے نوازا جا چکا ہے۔ چھیپا ویلفیئر دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک (ہیپلپ لائن 1020)، روزانہ 1 لاکھ سے زائد افراد کے لیے مفت دسترخوان، یتیم خانہ، اولڈ ہوم، شیلٹر ہوم اور تدفین کی 24/7 خدمات فراہم کر رہی ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*