اسلام آباد ناکام ہو چکا ہے تو تھرپارکر کے حوالے کریں، ٹھیک کر کے دکھائیں گے: بلاول بھٹو زرداری

مٹھی (5 اکتوبر 2026): پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اس کو تھرپارکر کے حوالے کر دیں ہم اس کو ٹھیک کردیں گے۔
پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے تھرپارکر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تھر جیسی تبدیلی پورے ملک میں نظر نہیں آتی، پورا پاکستان حیران ہو رہا ہے کہ تھر کہاں پہنچ گیا ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کو تھر کی یہ ترقی ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ اسلام آباد سے بھی کہتا ہوں کہ انہیں بھی تھر جیسی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔
پی پی چیئرمین نے کہا کہ ایک بیانیہ زبردستی چلایا جا رہا ہے کہ سسٹم تباہ ہو گیا ہے، اس لیے نئے صوبے بنائے جائیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اسلام آباد ناکام ہو گیا ہے تو اس کو تھر کے حوالے کر دیں، ہم اس کو ٹھیک کر دیں گے۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اسلام آباد کو تھرپارکر کے حوالے کر دیں اور وہاں کے بچوں کو تھر کے تعلیمی اداروں میں داخلہ کروا دیں تو پھر وہاں بھی تھر جیسے ٹاپ کرنے والے نوجوان ہوں گے۔ ہمیں صرف اسلام آباد کی ذمہ داری دے دیں ہم دکھا دیں گے کہ نوجوان کیا کچھ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی یتیموں کی جماعت جو کراچی میں انتشار کی سیاست کر رہی ہے۔ ایم ڈی کیٹ کے نتائج آتے ہیں تو تھر کے بچے ٹاپ کرتے ہیں، لیکن انہیں مبارکباد دینے کے بجائے یہ سیاسی یتیم نفرت کی سیاست کرتے ہیں، لیکن یہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ تھر بلاک ٹو میں 600 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جب کہ بلاک تھری میں 2000 میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ اسلام آباد کے ماہرین کہتے تھے کہ تھر کے کوئلے کی کوئی اہمیت ہی نہیں، لیکن آج ہم تھر کا کوئلہ استعمال کر کے 1.6 ارب ڈالر زرمبادلہ بچا رہے ہیں۔
پی پی چیئرمین نے کہا کہ تھر میں 90 فیصد روزگار سندھ کے نوجوانوں کو مل رہا ہے۔ تھر کے پروجیکٹس میں 60 فیصد روزگار مقامی نوجوانوں کو دیا جا رہا ہے۔ تھر کے کوئلے سے گیس اور فرٹیلائزر بھی بنا رہے ہیں، مزید فائدہ بھی اٹھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چاہتے ہیں اسلام آباد اور کراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے تبدیلی لائیں۔ سندھ کا ارادہ ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سندھ انویسمنٹ زون بنائے۔ ہم ٹھٹہ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پورٹ بھی بنانا چاہتے ہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*