آئی جی سندھ کا پولیس نظام سے خفگی کا اظہار؛ ڈنڈا بردار فورس کے بجائے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ضرورت پر زور

کراچی(رپورٹ: کامران شیخ)

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اپنے ہی پولیس نظام سے خفگی کا اظہار کردیا۔۔انھوں نے کہا ک پوری دنیا میں پولیس تبدیل ہوگئی مگر پولیس کا یہ موجودہ نظام انگریزوں نے ہمیں غلام بنانے کیلئے دیا تھا, افسوس ستر سالوں میں پولیس کے سسٹم کو تبدیل نہیں کیاگیا, ان خیالات کا اظہار آئی جی سندھ نے تاجر رہنما خالد تواب کی رہائش گاہ پر معروف بزنس مین ایس ایم تنویر کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا, آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ہمارے پاس85 فیصد لاٹھی بردار پولیس ہے اب پڑھے لکھے نوجوان سپاہی کی ضرورت ہے پولیس کے پرانے نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے ڈنڈا بردار پولیس سے 50 فیصد سے کم کرنے ہوں گے انھوں نے کہا کہ کچے میں 290 بڑے ڈاکوؤں نے ہتھیار پھنک کر خود کو پولیس کے حوالے کیا کچے کے علاقوں میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقے جو قدرتی حسن سے مالا مال ہیں طویل عرصے سے ڈاکوؤں کی سرگرمیوں کی وجہ سے بدامنی کا شکار تھے تاہم اب جدید نگرانی کے نظام نے صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ ڈرونز کے ذریعے مسلسل نگرانی کی گئی جس کے باعث جرائم پیشہ افراد کی نقل و حرکت محدود ہو گئی اور بالآخر انہیں سرینڈر پر مجبور ہونا پڑا آئی جی سندھ نے کہا کہ اس آپریشن کی خاص بات یہ رہی کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کسی بھی پولیس اہلکار یا شہری کو نقصان نہیں پہنچا انہوں نے کہا کہ اس کامیاب حکمت عملی کے نتیجے میں نہ صرف کچے کے علاقے محفوظ ہوئے بلکہ انڈس ہائی وے اور موٹر وے بھی مکمل طور پر محفوظ رہے حتیٰ کہ عید کے موقع پر بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

جاوید عالم اوڈھو نے پولیس نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ڈھانچہ برطانوی دور کا بنایا ہوا ہے، جس کا مقصد عوام کی خدمت کے بجائے کنٹرول قائم رکھنا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 70 سال گزرنے کے باوجود ہم اس نظام میں بنیادی تبدیلی نہیں لا سکے، اور آج بھی 85 فیصد پولیس فورس لاٹھی بردار اہلکاروں پر مشتمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پولیسنگ کا تصور بدل چکا ہے، جہاں کانسٹیبل سے لے کر اعلیٰ افسر تک ہر فرد کو پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں اب بھی روایتی انداز غالب ہے۔ انہوں نے دبئی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پولیس اہلکار ہر جگہ نظر نہیں آتے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کا نظام قائم ہے۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ اگر پولیس فورس میں کانسٹیبل کی تعداد کو 50 فیصد سے کم کر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو شامل کیا جائے تو پورا نظام تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کی پولیسنگ مکمل طور پر ٹیکنالوجی پر انحصار کرے گی، خصوصاً سیف سٹی جیسے منصوبوں کو مؤثر بنانے کے لیے جدید آلات ناگزیر ہیں, انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں کوریا سے حاصل کیے گئے جدید ڈرونز مسلسل سات دن تک فضا میں رہ کر نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ روایتی پولیسنگ سے نکل کر جدید، ٹیکنالوجی سے لیس نظام اپنایا جائے تاکہ امن و امان کو پائیدار بنیادوں پر یقینی بنایا جا سکے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*