کچرے کا شہر: کراچی کی صفائی آخر کس کے ذمے ہے؟

تحریر: عائشہ رانی

جنوری 2026 میں ایک تصویر وائرل ہوئی۔ کچرے کے بڑے ڈھیر، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی عمارت کی دیوار کے پاس۔ لوگوں نے شکایت کی، تو بورڈ نے “حل ہو گیا” لکھ کر ایک تصویر لگا دی۔لیکن جب دیکھا گیا تو وہ تصویر میں بھی کچرا صاف نظر آ رہا تھا۔ اگر اپنے دفتر کے باہر کا کچرا بھی صاف نہیں کیا جا سکتا، تو پھر بقیہ شہر کا کیا حال ہوگا؟ اعداد و شمار بھی ایک ہی بات کہتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق کراچی روزانہ 14,800 ٹن سے زیادہ کچرا پیدا کرتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 65 فیصد کراچی والے صفائی کی سہولت سے ناامید ہیں، اور 22 فیصد کو تو کوئی سہولت ہی ملتی نہیں۔ یعنی تقریباً 87 فیصد گھرانے کسی نہ کسی طرح مشکل میں ہیں۔ پیسہ کم نہیں لگا۔ 2021 سے 2026 تک صرف کراچی کی صفائی پر تقریباً 126 ارب روپے خرچ ہوئے۔ اس سے پہلے کے پانچ سالوں میں اس رقم کو 160 سے 170 ارب تک جاتے دیکھا گیا۔ لیکن اب سوال یہ ہے: اتنے پیسے کہاں گئے؟ شہر کی انتظامیہ عید کے موقع پر صفائی کے انتظامات کو بہت اچھا کہتی ہے، لیکن اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں کہ یہ کرپشن اور نااہلی کا نتیجہ ہے۔ دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں ہو سکتیں۔ اور یہی تضاد دکھاتا ہے کہ شہریوں کو صاف جواب کیوں نہیں ملتا۔ لیاری، لانڈھی، کورنگی، اورنگی، نارتھ کراچی جیسے علاقوں میں عید کے سات دن بعد بھی قربانی کا کچرا اٹھایا نہیں گیا۔ سولجر بازار اور گارڈن میں لوگوں نے بتایا کہ صفائی کا عملہ صرف پہلے دو دن آیا، پھر جا گیا۔ اور اب یہ کوئی ایک دن کا مسئلہ نہیں۔ یہ سال بھر کا معمول بن چکا ہے۔ واضح ہو کہ مسئلہ صرف فنڈز کی کمی نہیں۔ سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کے پاس 13 ہزار سے زیادہ ورکرز اور 2 ہزار 3 سو سے زیادہ گاڑیاں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ادارے ایک دوسرے کو گناہ گار ٹھہراتے ہیں، کوئی مستقل نگرانی کا نظام نہیں ہے، اور شکایت درج کرنے کے بعد بھی کچرا وہیں رہتا ہے جہاں تھا۔حل کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کا کچرا ایک صوبائی بورڈ سے نہیں سنبھالا جا سکتا، جو ہر علاقے سے دور بیٹھا فیصلے کرتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر علاقے کی اپنی مقامی انتظامیہ ہو، جسے وسائل بھی ملیں اور اختیار بھی، تاکہ صفائی کی ذمہ داری براہِ راست اسی علاقے کے منتخب نمائندوں پر ہو۔ جب تک مضبوط مقامی انتظامی یونٹس نہیں بنتے جو اپنے علاقے کے لیے خود جواب دہ ہوں، صوبائی سطح پر کتنے ہی بورڈ بن جائیں یا ٹھیکے بدل جائیں، کچرا اسی طرح دیواروں کے ساتھ پڑا رہے گا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*