کراچی: پولیس انٹرویو یا “جادوئی شو”؟ نتائج نے سب کو حیران کر دیا

اور بلآخر کراچی پولیس میں ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے لیے آئی جی کے سی پی او ورکشاپ کورس اور کراچی پولیس آفس (کے پی او ) کے پول ٹیسٹ کی "میوزیکل چیئر” اختتام پذیر ہوئی، کراچی میں پولیس افسران اور ایس ایچ اوز کے لیے ہونے والی ورکشاپ، پول ٹیسٹ میں انٹرویوز کے بعد سلیکشن کا عمل اب سوالات کی زد میں ہےاور کچھ حلقے اسے سیدھا سیدھا “جادوئی شو” قرار دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق 259 افسران کو کنٹرول میسج کے ذریعے طلب کیا گیا، انٹرویو ہوئے، مگر نتائج سامنے آئے تو کئی افسران کے لیے یہ کسی “سرپرائز پیکج” سے کم نہ تھا۔a

انٹرویو کے لیے ایک مضبوط ،جیداور سینئر افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ڈی آئی جی ایڈمن احمد نواز چیمہ، ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ ، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ، ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا اور ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر شامل تھے۔

لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اتنے سینئر اور تجربہ کار افسران پر مشتمل “ کمیٹی” کے ہوتے ہوئے بھی نتائج ایسے سامنے آئے کہ خود امیدوار بھی سمجھ نہ سکے کہ فیصلہ کس بنیاد پر ہواشاید وہ بھی نہ سمجھ پائے ہوں یا سب سمجھتے ہوں ،ذرائع اسے “فارم 47 اسٹائل” قرار دے رہے ہیں، جو کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

کچھ امیدواروں کے مطابق انٹرویو میں سوالات کچھ یوں تھے

“تعلیم کیا ہے؟ کہاں کہاں تعینات رہے؟”

کتنی بار تعینات رہے ؟اور بس… انہی سوالات سے شاید پوری قابلیت ناپ لی گئی۔

اب افسران پوچھ رہے ہیں کہ آخر وہ کون سا “جادوئی پیمانہ” تھا جس سے یہ فیصلہ کرلیا گیا کہ کس کی اہلیت کتنی ہے اور کون پاس اور کون فیل ہے؟

نتائج کی صورتحال بھی کم دلچسپ نہیں

سی پی او ورکشاپ میں تین بار فیل ہونے والا افسر پاس

بیچ نائن کا ٹاپر فیل
بیچ سکس کا سیکنڈ پوزیشن ہولڈر فیل
بیچ آٹھ کے فرسٹ اور سیکنڈ نمبر افسران بھی فیل
یعنی محنت کرنے والوں کے لیے پیغام شاید یہ تھا کہ زیادہ اچھا کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے
ادھر کچھ ایسے افسران بھی پاس ہو گئے جن کی سروس زیادہ تر دفتری رہہ،فیلڈ سے زیادہ فائلوں کے ساتھ وقت گزارا، مگر لگتا ہے انٹرویو میں فائلیں ہی بول گئیں،

افسران کا کہنا ہے کہ نہ کسی نے پوچھا کہ کتنے جرائم پیشہ افراد پکڑے، نہ یہ کہ فیلڈ میں کیا کارکردگی دکھائی؟بس “کہاں کہاں گھومے” سے ہی پورا فیصلہ ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی ایسے افسران جو اس طرح کے عمل میں کامیاب قرار دیے گئے، طویل عرصے تک پوسٹنگ کے انتظار میں رہے، جبکہ عملی طور پر وہی پرانے چہرے مختلف اہم عہدوں پر تعینات ہوتے رہے۔
ایک افسر نے طنزیہ انداز میں بتایا کہ
“اگر ہمیں بھی پاس کر دیتے تو کم از کم پرانے پاس ہونے والے افسران کی طرح فارم 47 والا رزلٹ ہم بھی خوشی میں ہاتھ میں لے کر گھومتے رہتے کیونکہ نہ انہیں پوسٹنگ ملی نہ ہم مبینہ سفارش اور چمک کے بغیر ایس ایچ او لگ پاتے لیکن پاس ہونے کی خوشی ہوتی اور تعیناتی کی آس لیے ریٹائر ہوجاتے … اب تو بس انتظار ہی نصیب ہے!”

ذرائع کے مطابق اس تمام عمل نے پولیس فورس کے مورال پر بھی بڑا اثر ڈالا ہے، کیونکہ میرٹ کے برعکس فیصلے نہ صرف مایوسی پیدا کرتے ہیں بلکہ ادارے کے اندر اعتماد کو بھی کمزور کرتے ہیں۔
دوسری جانب پولیس حکام یہی کہتےنظر آئیں گے کہ یہ تمام عمل شفاف ہوا ہے،اب میرٹ کہاں ہے، یہ سوال شاید اگلے انٹرویو میں پوچھا جائے گا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*