
کراچی(اسٹاف رپورٹر)ناظم آباد نمبر تین میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے نذیر ملا کی سلطنت کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا‘ پانچ منزلہ کروڑوں روپے مالیت کی تعمیر شدہ غیرقانونی عمارت پر پولیس کی بھاری نفری اور اسسٹنٹ کمشنر کی موجودگی میں ڈیمولیشن اسکواڈ نے آپریشن کیا‘ ناظم آباد میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بڑھتے آپریشن کے بعد تعمیراتی شعبے میں خوف پائے جانے لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ناظم آباد نمبر تین میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مکمل دن ڈیمولیشن آپریشن کرتے ہوئے ناظم آباد کے معروف بلڈر نذیر ملا کی تیار شدہ پانچ منزلہ سلطنت کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا‘ حکام کے مطابق پلاٹ نمبر E8-3 پانچ سو گز کے پلاٹ پر غیرقانونی دکانیں اور پانچ منزلہ عمارت تعمیر کی گئی تھی جس کیلئے اوچھے ہتھکنڈے بھی اپنائے گئے تھے جعلی کورٹ آرڈر اور حکم نامے کے ذریعے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پولیس کے علاوہ خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی تصدیق کے بعد ڈیمولیشن اسکواڈ نے ایسا آپریشن کیا جسے تاریخی قرار دیا جارہاہے۔ نذیر ملا کی تیار شدہ سلطنت کو چند گھنٹوں کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ڈیمولیشن ٹےم نے مزدوروں اورسلنڈر یونٹ کی مد سے مکمل مسمار کردیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر وسطی ندیم ملا اور ڈائریکٹر ڈیمولیشن سجاد خان‘خاتون اسسٹنٹ کمشنر اور SHOناظم آباد انسپکٹر خالد رفیق کی نگرانی میں عمارت کو ملبے کاڈھیر بنادیاگیا۔ علاقہ مکینوں نے ڈیمولیشن آپریشن کے دوران بتایا کہ پلاٹ پر شروع سے ہی تحفظات تھے دو گلیوں کے درمیان پلاٹ پر کیسے عمارت تعمیر ہوئی اس کے خلاف کورٹ سے رجوع کرکے کام رکوانے کی کوشش کی گئی تاہم بلڈر مافیا نے اوچھے ہتھکنڈے اپناتے ہوئے جعلی عدالتی حکم دکھاکر عمارت کو تعمیر کیا بعد ازاں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے شکنجے سے نہ بچ سکا۔وسطی میں ناظم آباد نمبر ایک سے پانچ تک غیرقانونی تعمیرات کے خلاف پولیس کی بھاری نفری اورضلعی انتظامیہ کی موجودگی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈیمولیشن اسکواڈ کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث غےرقانونی تعمیرات میں ملوث تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد میں بے چینی اور خوف پایا جاتا ہے۔


