
کراچی میں واٹر میٹرز کی تنصیب کے مجوزہ منصوبے نے شہری اور انتظامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بظاہر اس منصوبے کو پانی کے بلنگ نظام کو جدید بنانے اور شفافیت لانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے-
ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا ایک اہم مقصد شہر میں زیادہ پانی استعمال کرنے والے صارفین کی درست نشاندہی کرنا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ کئی کمرشل پلازے، صنعتی یونٹس، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور بعض سرکاری ادارے اپنی اصل کھپت سے کہیں کم ادائیگی کر رہے ہیں۔ واٹر میٹرز کی تنصیب سے پانی کے حقیقی استعمال، کم بلنگ، بقایا جات اور غیر قانونی سپلائی لائنز کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی اندرونی ذرائع کے مطابق یہ اقدام دراصل ریونیو مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی ایک بڑی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب کراچی کے واٹر سیکٹر پر مالیاتی اور اصلاحاتی اداروں کا دباؤ بھی اس منصوبے کی ایک اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ صوبائی حکام، ترقیاتی شراکت دار اور دیگر مالیاتی ادارے طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ پانی کی فراہمی کے ادارے میں مالی نقصانات کم کیے جائیں اور وصولیوں کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ میٹرز کی تنصیب کو شفافیت، قابل پیمائش فراہمی، ذمہ دارانہ بلنگ اور غیر ریونیو پانی میں کمی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شہر میں پانی کی فراہمی کے نظام پر غیر رسمی اثر و رسوخ کے حوالے سے خدشات بھی پرانے ہیں۔ کراچی میں کافی عرصے سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ پانی کی ترسیل کے بعض حصے غیر قانونی مفادات کے زیر اثر ہیں۔ زرائع کے مطابق میٹرز کے ذریعے پمپ کیے جانے والے پانی، صارفین تک پہنچنے والے پانی اور بل کیے جانے والے پانی کے درمیان فرق واضح ہو سکے گا، جس سے کسی بھی خفیہ نیٹ ورک یا پانی کی غیر قانونی منتقلی کو چھپانا مشکل ہو جائے گا اور اس منصوبے میں ممکنہ ٹھیکیدارانہ مفادات کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔ زرائع کے مطابق میٹرنگ سسٹم کے ذریعے خریداری کے معاہدے، تنصیب کے ٹینڈرز، دیکھ بھال کے معاہدے اور سافٹ ویئر مانیٹرنگ جیسے شعبوں میں نئے مالی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حلقے اس منصوبے کو صرف تکنیکی بہتری کے بجائے ایک بڑے مالیاتی منصوبے کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی مرحلے میں توجہ بڑے صارفین پر مرکوز ہے، لیکن مستقبل میں اس نظام کو گھریلو سطح تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔ اپارٹمنٹ عمارتوں، رہائشی علاقوں اور انفرادی گھروں میں میٹرز کی تنصیب سے کراچی میں روایتی فلیٹ ریٹ بلنگ ختم ہو کر استعمال کی بنیاد پر بلنگ متعارف کرائی جا سکتی ہے، جس سے شہریوں کے ماہانہ اخراجات میں اضافہ ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
یہ منصوبہ سیاسی طور پر بھی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ پانی کے بلوں میں ممکنہ اضافے سے عوامی ردعمل سامنے آ سکتا ہے، کم پانی والے علاقوں کے رہائشی مزاحمت کر سکتے ہیں جبکہ سیاسی جماعتیں اسے شہریوں پر اضافی بوجھ قرار دے سکتی ہیں۔
زرائع کے مطابق حکام اس منصوبے کو بتدریج نافذ کرنا چاہتے ہیں تاکہ فوری سیاسی تنازع سے بچا جا سکے۔
شہری حلقوں میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا واٹر میٹرز کی تنصیب واقعی پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہے یا پھر اس کا اصل مقصد کراچی کے آبی نظام پر مالی نگرانی کو مزید سخت کرنا ہے۔ آنے والے وقت میں اس منصوبے کے نتائج ہی یہ طے کریں گے کہ یہ اقدام شہری سہولت میں اضافہ کرے گا یا ایک نئی بحث کو جنم دے گا۔
