
کراچی جیل میں قیدیوں کو جبری مراعات اور بھتہ وصولی کے بڑے سسٹم کا انکشاف سامنے آیا ہے، ذرائع کے مطابق میمن برادری کے حوالہ ہنڈی، چیک باؤنس اور پراپرٹی کے تنازعات میں گرفتار افراد کو خصوصی ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ جس کیلئے رضوان میمن کراچی کے بڑے سسٹم سے منسلک ہے جو ملزمان سے جوڑ توڑ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ایف آئی اے، سائبر کرائمز کراچی پولیس یا دیگر اداروں کے مختلف کیسز میں گرفتار باعزت کاروباری شخصیات کو 10 لاکھ سے 25 لاکھ روپے کے عوض بی کلاس دلائی جاتی ہے۔ رضوان میمن اور سسٹم کے متعدد افراد کی کراچی سینٹرل جیل میں بلا روک ٹوک آمد و رفت یا موجودگی رہتی ہے۔ رضوان میمن سسٹم کے لوگ سٹی کورٹ اور ہائی کورٹ میں بھی موجود رہتے ہیں جونہی کسی ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ ہوتی ہے یا اسے جیل کسٹڈی کیا جاتا ہے تو گروہ کے لوگ ملزم کے اہلخانہ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انہیں جیل میں سخت ترین تشدد اور مشقت سے ڈرایا جاتا ہے، لیٹرین صاف کرانے کے حوالے دیئے جاتے ہیں اور پھر خود ہی دوران قید مراعات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ اس سلسلے میں میمن برادری کے ماضی میں گرفتار ملزمان کو سہولیات کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں آئی جی جیل خانہ جات سندھ فدا حسین مستوئی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے قطعی طور لاعلمی ظاہر کی تاہم اگلے دن انہوں نے ابتدائی تحقیقات میں ایسے سسٹم کی موجودگی اور ان کا سراغ لگانے کی کارروائی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے قانونی کاروائی کیلئے ہدایات دے دی ہیں اور ایسے عناصر کے قلا قمع کرنے کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق رضوان میمن اور اس کا سیٹ اپ گزشتہ کئی سالوں سے کراچی کی جیلوں کے لیے سرگرم ہے۔
