ڈاکٹر سارنگ کیس: واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد، ملزمان کی نشاندہی کے بعد رکشہ ڈرائیور کی تلاش جاری

کراچی (22 اپریل 2026): دو روز قبل شارع فیصل پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے قتل ہونے والے ڈاکٹر سارنگ کے قتل کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آگئی۔

کیس کے تفتیشی حکام نے بتایا کہ پولیس نے ڈاکٹر سارنگ کے قتل میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کر لی، حملہ آوروں نے واردات کیلیے ملیر سے رینٹ کی گاڑی لی تھی۔

تفتیشی حکام نے یہ بھی بتایا کہ واردات میں ملوث دو ملزمان کی نشاندہی ہوئی ہے، مقتول اہلیہ کے ساتھ جس رکشے میں تھے اس کے ڈرائیور کو تلاش کیا جا رہا ہے، بیوہ کا ابتدائی بیان ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مقتول کی اہلیہ نے بتایا کہ ڈاکٹر سارنگ گلستان جوہر اور کورنگی کے دو مختلف اسپتالوں میں نوکری کرتے تھے۔

تفتیشی حکام کے مطابق ورثا نے تدفین کے بعد اب تک تفتیش میں معاونت فراہم نہیں کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر سارنگ کے قتل کا مقدمہ تھانہ آرٹلری میدان میں مقتول کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کی تھی۔

مقتول کے بھائی نے بیان دیا تھا کہ ڈاکٹر سارنگ اپنی اہلیہ کے ساتھ سسرال سے گھر جا رہے تھے کہ ہوٹل کے قریب گاڑی سوار نامعلوم مسلح ملزم نے ان کا رکشہ روکا، ملزم نے ان کو رکشے سے نیچے اترنے کا حکم دیا اور ان پر فائرنگ کر دی۔

مدعی مقدمہ کے مطابق فائرنگ کے بعد ملزم فرار ہوگیا جبکہ ڈاکٹر سارنگ کی اہلیہ زخمی شوہر کو رکشے میں ہی اسپتال لے کر پہنچیں اور اپنے بھائی کو واقعے کی اطلاع دی۔

پولیس حکام کے مطابق مقتول کو سینے اور ٹانگوں پر 4 گولیاں ماری گئی، ڈاکٹروں نے بتایا کہ سینے پر لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی اور وہ اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*