
ایس ایس یو اکیڈمی میں 3 ہزار سے زائد مرد اور 300 خواتین اہلکاروں کی تربیت کی سہولت ہوگی
فائرنگ رینجز، ٹیکٹیکل ٹریننگ کمپلیکس، سمیولیشن رومز، K-9 اور SWAT تربیتی سہولیات منصوبے کا حصہ
کراچی(رپورٹ: کامران شیخ)
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چوکنڈی میں سندھ پولیس کے جدید ایس ایس یو ہیڈکوارٹرز اور سیکیورٹی ٹریننگ اکیڈمی کے قیام کی اصولی منظوری دے دی۔ منصوبے پر مجموعی طور پر 9 ارب 49 کروڑ 70 لاکھ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے، جبکہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر 4 ارب 48 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ ہوں گے یہ منظوری وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت پولیس سیکیورٹی کمپلیکس کے جامع منصوبے سے متعلق اجلاس میں دی گئی اجلاس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ اصغر میمن اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی حکام نے بتایا کہ ایس ایس یو اکیڈمی تقریباً 29.43 ایکڑ رقبے پر تعمیر کی جائے گی، جہاں 3 ہزار سے زائد مرد اور 300 خواتین پولیس اہلکاروں کے لیے تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی مجوزہ اکیڈمی میں فائرنگ رینجز، ٹیکٹیکل ٹریننگ کمپلیکس، سمیولیشن رومز، K-9 تربیتی مرکز اور SWAT چیلنج اوبستیکل کورس شامل ہوں گے۔l اس کے علاوہ تعلیمی، انتظامی اور رہائشی بلاکس، آڈیٹوریمز، تحقیق و ترقی کی سہولیات، لائبریریاں اور کمپیوٹر لیبارٹریز بھی تعمیر کی جائیں گی منصوبے میں پولیس اہلکاروں کی جسمانی اور طبی تربیت کے لیے سوئمنگ پول، جمنازیم، اسپورٹس کمپلیکس اور طبی مرکز بھی شامل ہے، جبکہ ایک وقت میں ایک ہزار افراد کے لیے ڈائننگ ہالز تعمیر کیے جائیں گے سیکیورٹی کے حوالے سے اکیڈمی میں سی سی ٹی وی کمانڈ سینٹر، واچ ٹاورز اور بم پروف حفاظتی دیواریں بھی تعمیر کی جائیں گی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ ایس ایس یو اکیڈمی کے پہلے مرحلے کا کام رواں مالی سال میں شروع کیا جائے۔ انہوں نے محکمہ خزانہ اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کو منصوبے کی تکنیکی اور مالیاتی جانچ جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید، پیشہ ورانہ اور ٹیکنالوجی سے لیس پولیس فورس تشکیل دینا ضروری ہے۔ شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کا انحصار قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مضبوطی پر ہے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ جدید سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیتی سہولیات ناگزیر ہیں، ایس ایس یو اکیڈمی خصوصی سیکیورٹی تربیت کا مرکز امتیاز بنے گی اور اعلیٰ تربیت یافتہ، ہر مشن کے لیے تیار پولیس فورس کی تیاری میں مدد دے گی وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ سندھ پولیس کی صلاحیتوں میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، سیکیورٹی اداروں کو جدید انفراسٹرکچر اور تربیتی نظام سے لیس کرنا ہوگا۔ یہ منصوبہ محض عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ سندھ کے طویل المدتی سیکیورٹی نظام میں سرمایہ کاری ہے، کیونکہ سیکیورٹی اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اجلاس میں محکمہ داخلہ کی ترجیحی کاموں کے لیے 50 کروڑ روپے کی ابتدائی ری اپروپریشن کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
