
چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں فتنۃ الخوارج نے جید عالم دین اور سابق رکن اسمبلی جے یو آئی شیخ محمد ادریس کو شہید کردیا۔
شیخ محمد ادریس پر حملہ آج صبح اس وقت ہوا جب وہ اپنے گھر سے مدرسے کی جانب جا رہے تھے۔
مولانا ادریس کے قتل کی ایف آئی آر تھانہ سی ٹی ڈی مردان میں درج کرلی گئی ہے۔
ایف آئی آر کانسٹیبل شیرعالم کی مدعیت میں درج کی گئی ہے جس میں نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے اور قتل کے ساتھ دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق گاڑی میں مولانا ادریس،2 پولیس اہلکار اور ڈرائیور تھے، ملزمان نے گاڑی پرپیچھے سے فائرنگ کی جس سے مولانا ادریس شہید اور 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب ابتدائی تفتیشی ذرائع کا کہنا ہےکہ حملے کے تانے بانے غیر ملکی نیٹ ورکس سے ملتے ہیں اور مبینہ طور پر افغان عناصر اور بیرونی ایجنسی کے تعاون سے یہ کارروائی کی گئی۔
ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جا رہا ہے جبکہ مولانا ادریس کو ممکنہ طور پر ان کے حالیہ بیانات کے تناظر میں نشانہ بنایا گیا۔ اسی واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے بھی قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق تمام دعوؤں کی تصدیق اور واقعے کی مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے، حتمی رپورٹ کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رابطہ
ترجمان جے یو آئی کے مطابق وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان سے شیخ ادریس کی شہادت پر تعزیت کی، وزیراعظم نے شیخ ادریس کی بلندی درجات کے لیے دعائے مغفرت کی، وزیراعظم شہبازشریف نے شیخ ادریس کے قاتلوں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔
خیال رہے کہ شیخ محمد ادریس کی شہادت سے قبل بھی فتنہ الخوارج دینی مدارس اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
21 جولائی 2025 کو چارسدہ میں فتنہ الخوارج نے فائرنگ کرکے مذہبی رہنما پیر ابراہیم کو شہید کیا تھا جبکہ 10 جولائی 2025 کو باجوڑ کے علاقے شندئی موڑ میں اےاین پی رہنما مولانا خان زیب کو بھی فتنہ الخوارج نے شہید کیا۔
14 مارچ 2025 کو جنوبی وزیرستان میں مسجد پر خودکش حملے میں جے یوآئی کے ضلعی امیر مولانا عبداللہ ندیم زخمی ہوئے جبکہ 28 فروری 2025 کو اکوڑہ خٹک میں مسجد کو نشانہ بنایا گیا جس میں جے یو آئی رہنما حامدالحق حقانی شہید ہوئے۔
