پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی بحث تیز، مختلف تجاویز زیرِ غور

*کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے، پنجاب اور بلوچستان کی تقسیم، خیبرپختونخوا میں ہزارہ صوبے اور ڈویژن کی سطح پر انتظامی ڈھانچہ مضبوط بنانے کی تجاویز بھی بحث کا حصہ

حیدراباد ۔۔۔خصوصی رپورٹ۔۔۔۔۔۔۔راحت کاظمی. .

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی سطح پر بحث اور قومی مباحثہ جاری ہے۔ ملک میں انتظامی اختیارات کی تقسیم، آبادی میں اضافے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے تناظر میں مختلف تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ ان تجاویز میں نئے صوبوں کے قیام سے لے کر موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات تک متعدد ماڈلز زیرِ بحث ہیں۔

زیرِ بحث تجاویز میں کراچی اور گوادر کو وفاق کے ماتحت کرنے، پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کرنے، بلوچستان کی تقسیم اور خیبرپختونخوا کو پختون اکثریتی علاقوں اور ہزارہ خطے کی بنیاد پر الگ انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے جیسے خیالات شامل ہیں۔ تاہم ان تجاویز کی آئینی حیثیت، سیاسی قبولیت اور عملی نفاذ کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے نئے صوبے بنانے کے بجائے ڈویژن کی سطح پر انتظامی یونٹس کو مضبوط کرنے کی تجویز بھی دی جا رہی ہے۔ اس مؤقف کے حامیوں کا خیال ہے کہ مؤثر مقامی حکومتوں، بااختیار انتظامی اداروں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے بھی عوامی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ محض انتظامی تبدیلی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ قومی یکجہتی، صوبائی خودمختاری، لسانی و علاقائی شناخت، مالی وسائل اور سیاسی نمائندگی جیسے اہم معاملات بھی وابستہ ہیں۔ اسی لیے کسی بھی تجویز پر پیش رفت کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے، عوامی حمایت اور آئینی تقاضوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔
زرایعء کے مطابق 15 نومبر کر 28 ویں ترمیم قومی اسمبلی میں پیش ہونے کا امکان ہے

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*