نجی اراضی پر سرکاری سرپرستی میں قبضے کا انکشاف

وزیر اعظم نے کراچی میں نجی اراضی پر قبضے کا نوٹس لے لیا،آئی جی کو معاملے پر فوری کارروائی کا حکم، انکوائری جاری

KDA اسکیم 33، گلزار ہجری کی 10 ایکڑ اراضی پر اینٹی انکروچمنٹ کی گاڑی میں آنے والے مسلح افراد نے قبضہ کیا

اینٹی انکروچمنٹ فورس کی موبائل میں آنے والے جدید اسلحہ سے لیس افراد نے اراضی پر موجود گارڈز کو یرغمال بنا لیا

سرکاری گاڑی میں آنے والے مسلح افراد بٹھا دیے گئے، ہمارے گارڈز لیاری ایکسپریس وے پر چھوڑے، شہری کی شکایت

کراچی ( کرائم رپورٹر )وزیر اعظم پاکستان نے کراچی میں نجی اراضی پر قبضے کا نوٹس لے لیا،آئی جی سندھ کو معاملے پر فوری کارروائی کا حکم، انکوائری جاری ہے، کے ڈی اے اسکیم 33، گلزار ہجری کی 10 ایکڑ سے زائد اراضی پر اینٹی انکروچمنٹ کی گاڑی میں آنے والے مسلح افراد کی جانب سے قبضہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے تاہم وزیر اعظم پاکستان کو دی جانے والی درخواست پر کارروائی ابتک نہیں ہوسکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کو کی گئی شکایت میں شہری کا کہنا ہے کہ اسکیم 33 گلزار ہجری میں 10 ایکڑ سے زائد اراضی ہے جس پر نجی سیکیورٹی گارڈ تعینات تھے، گزشتہ دنوں اینٹی انکروچمنٹ فورس کی موبائل میں آنے والے جدید اسلحہ سے لیس افراد نے اراضی پر موجود سیکیورٹی گارڈز کو یرغمال بنا لیا جبکہ سرکاری گاڑی میں آنے والے مسلح افراد وہاں بٹھا دیے گئے، ہمارے سیکیورٹی گارڈ کو لیاری ایکسپریس وے کے قریب لے جا کر چھوڑ دیا گیا۔ شہری کی درخواست پر آئی جی سندھ نے ایس ڈی پی او کو انکوائری کر کے تین دن میں رپورٹ طلب کی تاہم ابتک ایس ڈی پی او نے انکوائری رپورٹ جمع نہیں کرائی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں زمینوں پر قبضے کے معاملات سنگین ہورہے ہیں، سپر ہائی وے، نیشنل ہائی وے ، نادرن بائی پاس کے اطراف ،سرجانی ٹاون، منگھوپیر اور دیگر علاقوں میں بھی دھڑلے سے قبضہ مافیا سرگرم ہے،یاد رہے کہ چند ماہ قبل سرجانی ٹاون میں سرکاری زمین واہگزار کرائے جانے کی کارروائی کے دوران لینڈ مافیا کے کارندوں کی فائرنگ سے مختیار کار کی جان بھی جا چکی ہے۔شہر کے اطراف کئی نجی سوسائٹیز کی زمینوں پر قبضہ ہوچکا، کارروائی کی صورت میں سخت مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے، شہریوں اور اوور سیز پاکستانیوں کی اربوں روپے کی اراضی پر تیزی سے قبضہ جاری ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*