میر رضا کے والد نے سندھ حکومت کی جوڈیشل کمیشن کی پیشکش کو مسترد کردیا

کراچی : مقتول میر رضا کے والد میر حسین نے سندھ حکومت کی جوڈیشل کمیشن کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے نئی تحقیقاتی کمیٹی پراعتماد کا اظہار کردیا.

تفصیلات کے مطابق نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کیس میں مقتول کے والد میر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےحکومتِ سندھ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز وزیرِ داخلہ سندھ اور میئر کراچی نے ان کے گھر آ کر جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز دی تھی، تاہم انہوں نے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ فی الحال اس پر رضامند نہیں ہیں۔

میر حسین کا کہنا تھا کہ نئی تحقیقاتی کمیٹی پر پورا اعتماد ہے، ڈی آئی جی عامر فاروقی ایک اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں اور امید ہے کہ اگلے 4 سے 5 دنوں میں سچائی سامنے آ جائے گی تاہم اگر آگے کسی اور فورم پر جانا ہوا تو اپنے مطابق فیصلہ کریں گے۔”

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے کا بزنس پارٹنر گزشتہ 10 دنوں سے غائب ہے، لیکن پولیس نے اس سے صرف ایک مرتبہ تفتیش کی، بیٹے کے ساتھ ظلم ہوا انصاف چاہیے۔

مقتول کے والد نے اعتراض اٹھایا کہ گلستانِ جوہر کے گیسٹ ہاؤس کے ملازمین سے ہونے والی تفتیش کے بارے میں انہیں کچھ نہیں بتایا جا رہا، اور نہ ہی گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی ویڈیو ابھی تک منظرِ عام پر لائی گئی ہے۔

یاد رہے گذشتہ روز وزیر داخلہ سندھ نے میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی کمیشن کے اعلان پر وکیل جبران ناصر نے ایکس پر لکھا میر رضا کے اہل خانہ نے کسی عدالتی کمیشن کی درخواست یا رضامندی نہیں دی،نہ ہی ہمیں اس مرحلے پر اس کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے ۔ سندھ حکومت کو سہولت کے نام پر رکاوٹیں یا کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*